تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 430
خطبہ جمعہ فرمودہ 03 دسمبر 1954ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد سوم بھلا کوئی شخص اس کی باتوں کو معقول سمجھ سکتا ہے۔غرض کوئی نئی جماعت، خصوصاً الہی جماعت ، اسی وقت بنتی ہے، جب زمانہ میں فساد اور خرابی پیدا ہو جائے۔اور جب فساد اور خرابی پیدا ہو جاتی ہے تو کوئی قوم یکدم نہیں بن سکتی بلکہ اس پر ایک وقت لگتا ہے۔آخر جب خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ کوئی رسول ایسا نہیں آتا ، جس پر اس زمانہ کے لوگ استہزاء نہیں کرتے تو ظاہر ہے کہ مذاق کسی بڑی قوم کے ساتھ نہیں کیا جاسکتا۔اگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ دولاکھ میں سے لاکھ ، ڈیڑھ لاکھ ہو جا تا یا دوکروڑ میں سے ایک کروڑ یا ڈیڑھ کروڑ لوگ ہو جاتے تو باقی لوگوں میں اتنی ہمت ہی کہاں ہو سکتی تھی کہ وہ ان پر استہزاء کرتے ؟ مذاق اسی لئے کیا جاتا ہے کہ وہ قوم دوسروں سے چھوٹی ہوتی ہے۔قرآن کریم میں خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ انبیاء کی جماعتوں کولوگ شرذمة قلیلون کہتے ہیں۔وہ سمجھتے ہیں کہ یہ چند لوگ ہیں، جو ترقی اور بیداری کی خواہیں دیکھ رہے ہیں۔جن کے مقاصد کو یہ لوگ پیش کر رہے ہیں، ان کے لئے تو ایک مضبوط قوم کی ضرورت ہے۔یہ چند آدمی اس کام کو کس طرح کر سکتے ہیں؟ غرض انبیاء کی جماعتیں ہمیشہ چھوٹی ہوتی ہیں اور بعض دفعہ تو ان کی تعداد اتنی قلیل ہوتی ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں کہ بعض انبیاء کوصرف ایک ایک شخص نے مانا۔اب اس ایک شخص کا دوسرے لوگوں پر کیا رعب پڑسکتا تھا؟ بعد میں یہ جماعتیں آہستہ آہستہ بڑھنا شروع کرتی ہیں اور ان کے افراد ایک سے دو، دو سے تین اور تین سے چار ہو جاتے ہیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تاریخ سے زیادہ محفوظ تاریخ اور کسی نبی کی نہیں۔حضرت نوح، ابراھیم ہوئی اور عیسی علیهم السلام کی تاریخیں کسی حد تک محفوظ ہیں۔لیکن زیادہ تر قابل اعتبار وہی حالات ہیں، جو قرآن کریم نے بیان فرمائے ہیں، باقی تاریخ زیادہ روشن نہیں۔لیکن رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی ایسی ہے، جو ایک کھلی کتابکی طرح ہے۔جس طرح آپ کو سورۃ فاتحہ ملی ، جو کھلے مضامین رکھنے والی ہے، اسی طرح آپ کو زندگی بھی وہ ملی ، جو کھلی کتاب کے طور پر تھی۔آپ نے بیویوں سے پیار کیا تو وہ بھی تاریخ میں موجود ہے۔آپ نے تھو کا، نہایا، وضوکیا، پیشاب کیا، پانی پیا یا یا کھانا کھایا تو وہ بھی تاریخ میں محفوظ چلا آتا ہے۔غرض آپ کی تاریخ بھی فاتحہ ہے اور آپ کی زندگی بھی فاتحہ ہے۔دشمن اگر اعتراض کرتا ہے تو ہم اسے کہتے ہیں کہ تم اس لئے اعتراض کرتے ہو کہ محمدصلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کھلی کتاب کے طور پر ہے۔اگر آپ کی زندگی بھی حضرت موسیٰ یا حضرت عیسی علیهما السلام کی زندگی کی طرح بند کتاب کی طرح ہوتی تو تمہیں اعتراض کرنے کا موقع میسر نہ آتا۔پس آپ کی زندگی پر اعتراضات کی کثرت اس بات کی علامت نہیں کہ آپ پر دوسرے انبیاء کی نسبت زیادہ اعتراضات 430