تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 429
تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد سوم خطبہ جمعہ فرمودہ 03 دسمبر 1954ء ساتھ حالات میں بھی تغیر ہوتا ہے۔جب بچہ اتنی چھوٹی عمرکا ہوتا ہے کہ وہ صرف چار پائی پر لیٹار ہے تو ماں کو چوبیس گھنٹہ اس کا خیال رکھنا پڑتا ہے اور یہ خیال بھی صرف اس حد تک ہوتا ہے، جس حد تک بچے کے لیٹنے کا سوال ہوتا ہے۔پھر بچہ کچھ بڑا ہو جاتا ہے اور اپنے منہ میں انگوٹھا ڈالنے لگ جاتا ہے تو جن لوگوں کو توفیق ہوتی ہے، وہ اپنے بچوں کو چوسنی لے دیتے ہیں تا وہ اسے مسوڑھوں کے نیچے دبا تار ہے۔انگوٹھا چوسنے کی خواہش طبعی ہوتی ہے کیونکہ اس وقت مسوڑھوں میں خراش پیدا ہوتی ہے اور انگوٹھا چوسنا یا چوسنی منہ میں رکھنا، دانتوں کے نکلنے اور ان کے بڑھنے میں مدد دیتا ہے۔اب یہ چوسنی کا خرچ زائد ہو جاتا ہے، پہلے یہ خرچ نہیں ہوتا تھا۔پھر بچہ اور بڑا ہوتا ہے، مثلاً وہ سر اٹھانے لگ جاتا ہے تو تکیوں کی ضرورت پیش آتی ہے تا اس کو سراٹھانے میں تکلیف نہ ہو، تکیہ رکھ کر اس کے سر کو بلند کر دیا جاتا ہے اور اس طرح سراٹھانے میں اسے سہولت ہو جاتی ہے۔پھر اس سے بڑا ہوتا ہے تو گر میلوں اور تکیوں کی ضرورت ہوتی ہے تا بچہ بیٹھنے لگ جائے۔اور جب بچہ اور بڑا ہوتا ہے تو گھر والے اسے ایک دو پیسے کی گاڑی بنوادیتے ہیں، جو بوجھ پڑنے پر آگے چلنے لگ جاتی ہے۔تاکہ اس طرح اسے اپنے پاؤں ہلانے اور چلنے کی عادت پڑے۔اس کے بعد وہ اور بڑا ہوتا ہے تو اس کے لباس کا خیال رکھا جاتا ہے۔ماں باپ سمجھتے ہیں کہ اب اسے پاجامہ، سلوار یاتہ بند بنادینا چاہئے ، سردیوں میں جراب کا استعمال شروع کر دیا جاتا ہے۔پھر ایک زمانہ بڑھنے کا ایسا آتا ہے، جب ہر چھ ماہ کے بعد پہلا لباس چھوٹا ہو جاتا ہے۔جن گھروں میں بچے زیادہ ہوتے ہیں ، وہ ا عموما اس قسم کے کپڑے سنبھال کر رکھ لیتے ہیں تا دوسرے بچوں کے کام آئیں۔قومی ترقیات بھی اسی طرح چلتی ہیں۔کبھی ایسا نہیں ہوا کہ ایک قوم ایک دن میں ہی پیدا ہوئی اور پروان چڑھی ہو۔قرآن کریم سے پتہ لگتا ہے کہ نئی مذہبی قوم اس وقت کھڑی کی جاتی ہے، جب دنیا میں خرابیاں پیدا ہو جاتی ہیں۔جیسے فرمایا:۔ظَهَرَ الْفَسَادُ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ یعنی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کی اصل وجہ یہ تھی کہ اس وقت بر و بحر میں فساد پیدا ہو گیا تھا اور یہی حالت ہمیشہ انبیاء کی بعثت کے وقت رہی ہے۔قرآن کریم میں خدا تعالیٰ فرماتا ہے:۔يُحَسْرَةً عَلَى الْعِبَادِ مَا يَأْتِيْهِمْ مِنْ رَّسُولٍ إِلَّا كَانُوْا بِهِ يَسْتَهْزِءُوْنَ کہ جب بھی کوئی نبی مبعوث ہوتا ہے تو اس کے خیالات چونکہ رائج الوقت خیالات سے مختلف ہوتے ہیں اور لوگوں کو مجنونانہ باتیں معلوم ہوتی ہیں، اس لئے لوگ ان پر مذاق اڑاتے ہیں۔اور سمجھتے ہیں کہ 429