تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 428 of 802

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 428

خطبہ جمعہ فرمودہ 03 دسمبر 1954ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلدسوم ہم صرف اس بات پر کفایت کر لیں کہ جس طرح ہم پہلے تھے، آئندہ بھی ہم اسی طرح رہیں گے ، ہم بڑھیں گے نہیں تو یہ امر ہماری جماعت کے بڑھاپے پر تو دلالت کر سکتا ہے، اس کی جوانی پر دلالت نہیں کر سکتا۔انسان کے اوپر تین قسم کے دور آتے ہیں۔پہلا دور انسان کے پیدا ہونے اور اس کے ترقی کرنے کا دور ہوتا ہے۔اس دور میں ہمیشہ آج کی حالت کل کی حالت سے بہتر ہوگی اور آج کی ذمہ داریاں کل سے زیادہ ہوتی ہیں۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ آج سے ہم جسمانی طور پر 24 گھنٹے مراد نہیں لے سکتے۔انسانی زندگی کی بڑھوتی میں بعض دفعہ ایک دن، چھ ماہ کا ہوتا ہے، بعض دفعہ ایک سال کا ہوتا ہے اور بعض دفعہ پندرہ یا میں سال کا ہوتا ہے۔اسی طرح انسانی زندگی میں بعض تغییرات ایسے ہوتے ہیں، جو تین ، چار ماہ کے عرصہ میں ہو جاتے ہیں۔مثلاً بچپن کی عمر میں پہلا تغیر انسان کے اندر بولنے ، چلنے اور دانت نکالنے کا ہوتا ہے۔ان سارے تغیرات کو دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ ایک محدود وقت میں ہونے لگ جاتے ہیں۔اور بعض بچے ایسے ہوتے ہیں، جو پہلے بولنے لگ جاتے ہیں اور بعض بچے پہلے چلنے لگ جاتے ہیں۔ایک غریب سے غریب گھر میں بھی، جو بچوں کے لئے گڑیاں بھی نہیں خرید سکتا ، بچہ غوں غوں کرتا ہے تو دوسرے بچے شور مچادیتے ہیں کہ ننھا غوں غوں کر رہا ہے۔یاوہ سر اٹھانے لگ جاتا ہے تو دوسرے بچے شور مچادیتے ہیں کہ آج ننھا سر اٹھا رہا ہے۔انہیں سارے تغیرات نظر آتے ہیں۔لیکن ہمیں نظر نہیں آتے۔ہم کہتے ہیں کہ فلاں پیدا ہوا اور جواں ہوا، درمیانی تغیرات کا علم ہمیں نہیں ہوتا۔لیکن ارد گرد کے رہنے والے اس کے معمولی معمولی تغییرات کو بھی محسوس کرتے ہیں۔مثلاً بچہ خوں خوں کرتا ہے تو ارد گر دوالے کہتے ہیں، نھا غوں غوں کر رہا ہے۔اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ کل تک اس نے غوں غوں نہیں کیا تھا۔یا اگر بچہ منہ میں انگوٹھا ڈالتا ہے تو اس کے قریب رہنے والے کہتے ہیں، ننھے نے اپنا انگوٹھا منہ میں ڈالا ہے۔اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ یہ ترقی اس نے آج کی ہے، کل تک اس نے منہ میں انگوٹھا نہیں ڈالا تھا۔پھر ایک اور زمانہ آتا ہے، جب بچہ اپنا سر اٹھانے لگ جاتا ہے۔ارد گر دوا لے اس کے اس تغیر کو بھی محسوس کرتے ہیں۔جس وقت بچے کے اعصاب مضبوط ہو جاتے ہیں اور وہ لوگوں کو اردگرد چلتے ہوئے دیکھتا ہے تو وہ بھی اپنی گردن اونچی کرتا ہے اور قریب کھیلنے والے بچے شور مچاتے ہیں کہ آج ننھے نے گردن سیدھی کی ہے۔اس کے معنی یہ ہوتے ہیں کہ آج سے قبل اس نے ایسا نہیں کیا تھا، یہ ترقی اس نے آج کی ہے۔پھر بچہ اس قابل ہو جاتا ہے کہ بیٹھنے لگ جاتا ہے اور اپنی کمر ایک حد تک سیدھی کر لیتا ہے تو بچے شور مچاتے ہیں کہ ننھا بیٹھ گیا ہے۔اس کے معنی یہ ہوتے ہیں کہ اس نے یہ ترقی آج کی ہے۔پھر ان تغیرات کے ساتھ 428