تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 422
خطبہ جمعہ فرمودہ 26 نومبر 1954ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد سوم کوشش کرتے تو یہ کمی پوری ہو سکتی تھی۔اب آپ سمجھ سکتے ہیں کہ دولاکھ، چار ہزار کے وعدوں میں سے 80 ہزار کے وعدے وصول نہ ہوں تو بجٹ میں کس قدر کمی واقع ہو جاتی ہے۔نتیجہ یہ ہے کہ ابھی ساتواں مہینہ جا رہا ہے۔اس کے ختم ہونے پر ایک پیسہ بھی تحریک جدید کے پاس نہیں ہوگا اور یہ کتنی خطرناک بات ہے۔اصول تو یہ بنایا گیا تھا کہ دسویں سال کے وعدے سارے کے سارے ریز روفنڈ میں جائیں تا دس لاکھ کا قرضہ، جو تحریک جدید کے ذمہ ہے، اتر جائے۔لیکن ہوا یہ ہے کہ دسویں سال کا چندہ ، جو وصول ہوا ، وہ بھی خرچ کرلیا گیا ہے۔اور اس کے خرچ کر لینے کے بعد یہ حالت ہے کہ اگر 80 ہزار کے بقائے وصول ہو جائیں تو تب بمشکل تین ماہ کا خرچ چل سکے گا۔لیکن ابھی باقی پانچ ماہ ہیں۔دسویں سال کے وعدوں کی حالت یہ ہے کہ لا ہور شہر کی وصولی 40 فیصدی ہے۔پنجاب کی وصولی بھی قریباً اتنی ہے بلکہ اس سے بھی کم ہے۔صوبہ سرحد کی وصولی بھی قریباً اتنی ہی ہے۔ریاست بہاولپور کی وصولی چالیس فی صد سے بھی کم ہے۔کراچی شہر کی وصولی قریباً 55 فی صدی ہے۔صوبہ سندھ کی وصولی 65 فی صدی ہے۔بلوچستان کی وصولی اور بھی گر گئی ہے۔یعنی کل 30 فی صدی وعدے وصول ہوئے ہیں۔مشرقی پاکستان کی وصولی بھی قریباً 30 فیصدی ہے اور بیرون پاکستان کی وصولی اس میں بالکل ہی کم ہے۔یعنی قریباً دس فیصدی وعدے وصول ہوئے ہیں۔میں نے پہلے بھی بتایا تھا کہ بیرون پاکستان کے وعدوں کے پورا ہونے میں ابھی کافی وقت باقی ہے۔اور پھر یہاں پہنچنے میں بھی کچھ وقت لگ جاتا ہے۔غرض دفتر دوم کے کل وعدے 1,92,346 کے تھے اور وصولی 88,116 کی ہوئی ہے۔اگر دونوں دفتروں کے وعدے سو فیصدی وصول ہو جا ئیں تو اس کے یہ معنی ہیں کہ 70 ہزار روپے کی رقم ریز روفنڈ کے لئے بچ جائے گی۔بشرطیکہ دونوں کے وعدے سو فیصدی وصول کر لئے جائیں اور دونوں کو خرچ کر لیا جائے۔حالانکہ دفتر دوم کے متعلق یہ خیال تھا کہ یہ سارے کا سارار یز روفنڈ میں جائے۔اگر پہلے قرضے اتر جائیں تو نئے سرے سے قرض لیا جا سکتا ہے۔لیکن اگر پہلے قرضے ہی باقی ہوں تو نیا قرض نہیں لیا جا سکتا۔! پس میں نئے سال کا اعلان کرتے ہوئے یہ بھی نصیحت کرتا ہوں کہ سب سے پہلا قدم یہ ہے کہ جماعت سستی دور کرے۔یہ نہ کرے کہ چپ کر کے بیٹھ جائے بلکہ بقائے وصول کرنے کی پوری کوشش کرے۔کراچی کو میں نے اس طرف توجہ دلائی تھی اور جماعت نے وعدہ کیا تھا کہ وہ بقائے بھی وصول کرے گی اور اب بھی کوشش کر رہی ہے۔چنانچہ انہوں نے اگلے سال کے بھی گیارہ ہزار روپے وصول کر لیے ہیں۔جماعتوں کو چاہئے کہ وہ بڑھ چڑھ کر وعدے کریں اور پھر ان کی وصولی کی طرف بھی توجہ کریں۔بالخصوص میں خدام کو اس طرف توجہ دلاتا ہوں کہ نئی پارٹی، جو آئی ہے، وہ ست ہے۔اول تو نوجوان 422