تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 423
تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد سوم خطبہ جمعہ فرمودہ 26 نومبر 1954ء وعدے کم کرتے ہیں اور پھر وصولی کی طرف توجہ نہیں کرتے۔حالانکہ نو جوانوں کو زیادہ چست ہونا چاہئے تھا۔نو جوانوں پر پژمردگی نہیں ہوتی اور نہ ان پر خاندان کا بوجھ ہوتا ہے۔انہیں دلیری سے وعدے کرنے چاہیں۔اور پھر انہیں پورا بھی دلیری سے کرنا چاہئے۔میں سمجھتا ہوں کہ جوستی واقع ہو رہی ہے ، وہ اس وجہ سے ہے کہ نو جوانوں میں بعض نقائص پائے جاتے ہیں۔مثلاً سنیماد یکھنا ہے، سگریٹ نوشی ہے اور چونکہ ان عادتوں پر خرچ زیادہ ہوتا ہے، اس لئے وہ ان تحریکوں میں بہت کم حصہ لیتے ہیں۔اس لئے خدام کو اس طرف خاص توجہ کرنی چاہئے۔اور انہیں چاہئے کہ وہ اب کے بوجھ کو اٹھانے کی پوری کوشش کریں۔اول تو وہ چندہ 1,92,000 کی بجائے اڑھائی لاکھ تک پہنچائیں اور پھر وصولی سو فیصدی نہیں بلکہ اس سے زیادہ کریں۔پہلے دور میں اس قسم کی مثالیں موجود ہیں کہ مثلاً وعدہ دولاکھ کا تھا تو وصولی سواد ولا کچھ ہوئی۔جب تک وہ اس روح کو پیدا نہیں کرتے اور جب تک اپنی ذمہ داریوں کوادا نہیں کرتے ، خالی نام کا کچھ فائدہ نہیں۔دنیا میں وہ پہلے ہی بدنام ہیں۔انہیں تسبیح وتحمید کرنے کے لئے قائم کیا گیا ہے لیکن مخالفین کہتے ہیں کہ یہ ایک سیاسی جماعت ہے۔گویا ایک طرف ان کے متعلق یہ جھوٹ بولا جاتا ہے اور دوسری طرف انہیں خدا تعالیٰ بھی نہ ملے تو اس سے زیادہ بدبختی اور کیا ہوگی۔پس میں خدام کو توجہ دلاتا ہوں کہ یہ نیا دور خدام کا ہے، اس میں زیادہ تر حصہ لینے والے انہیں میں سے ہیں۔اس لئے ان پر فرض ہے کہ وہ اپنا چندہ بڑھائیں اور کوئی احمدی ایسانہ رہے، جو تحریک جدید میں شامل نہ ہو۔دوسری طرف یہ کوشش کریں کہ وصولی سو فیصدی سے زیادہ ہو، تا قرضے اتر کر ریز روفنڈ قائم کیا جا سکے۔ہم نے اپنا کام وسیع کرنا ہے۔پہلے تو ہم بیج بکھیر رہے تھے۔اور کامیابی اسی صورت میں ہو سکتی ہے کہ ہم بے انتہا لٹریچر پیدا کریں، ایک، ایک مبلغ کے ساتھ دس، دس ہزار کا لٹریچر ہو۔اب تو یہ حالت ہے کہ ہم نے مورچوں پر سپاہی بٹھا رکھے ہیں ، انہیں رائفلیں بھی دی ہیں، لیکن گولہ بارود مہیا نہیں کیا۔اور گولہ بارود کے بغیر رائفل ایک ڈنڈا ہی ہے۔میری اس مثال پر احراری کہہ دیں گے کہ دیکھ لیا ، احمدی مبلغین کو رائفلیں دی جاتی ہیں۔گویا علم معانی اور علم بیان میں جو ادب کی خصوصیات بیان کی جاتی ہیں ، ان سے بھی ہمیں محروم رکھا جاتا ہے۔اگر وہ کہیں کہ فلاں شیر ہے تو کوئی نہیں کہتا، اس کے پنجے دکھاؤ۔لیکن اگر ہم کہہ دیں کہ فلاں شیر ہے تو کہتے ہیں، اس کے پنجے کہاں ہیں؟ گویا ہمیں زبان کے تمام حقوق سے محروم رکھا جاتا ہے۔لیکن ہماری زبان میں جو محاورے ہیں، وہ ہمیں استعمال کرنے ہی پڑتے ہیں۔اس میں ہمارا کوئی قصور نہیں۔غالب کہتا ہے:۔بنتی نہیں ہے بادہ و ساغر کہے بغیر 423