تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 420 of 802

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 420

خطبہ جمعہ فرمودہ 26 نومبر 1954ء تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔۔جلد سوم بیچا کر رکھتا ہے۔مگر جونہی وہ آئینہ خراب ہو جاتا ہے اور میلا ہو جاتا ہے اور اس میں اس کی شکل نظر نہیں آتی یا چہرہ خراب نظر آتا ہے تو وہ اسے اٹھا کر پھینک دیتا ہے۔اور جب میں یہ کہ رہا ہوں تو رویاء میں دیکھتا ہوں کہ میرے ہاتھ میں ایک آئینہ ہے اور ان الفاظ کے کہنے کے ساتھ ہی وہ میلا ہو جاتا ہے اور کام کا نہیں رہتا اور میں کہتا ہوں کہ انسان کا دل بھی خدا تعالیٰ کے مقابل پر آئینہ کی طرح ہوتا ہے، اللہ تعالیٰ اس میں اپنے حسن کا جلوہ دیکھتا ہے اور اس کی قدر کرتا ہے۔مگر جب وہ میلا ہو جاتا ہے تو اس سے اللہ تعالیٰ کا حسن ظاہر نہیں ہوتا تو وہ اسے اس طرح اٹھا کر پھینک دیتا ہے، جس طرح خراب آئینہ کو اٹھا کر پھینک دیا جاتا ہے۔اور یہ کہتے ہوئے ، میں نے اس آئینے کو جو میرے ہاتھ میں تھا، زور سے اٹھا کر پھینک دیا اور وہ چکنا چور ہو گیا۔اس کے ٹوٹنے سے آواز پیدا ہوئی اور میں نے کہا، جس طرح خراب شدہ آئینے کو توڑ دینے سے انسان کے دل میں کوئی درد پیدا نہیں ہوتا، اسی طرح ایسے گندے دل کو توڑنے کی اللہ تعالیٰ کوئی پروا نہیں کرتا“۔( مطبوعه افضل 03 دسمبر 35ء 02 مارچ 45 ) در حقیقت انسان کی پیدائش کی غرض خدا تعالیٰ کا قرب حاصل کرنا ہے اور یہ چیز بغیر قربانی کے حاصل نہیں ہو سکتی۔لوگ کہتے ہیں کہ روحانی ترقی حاصل کرنی چاہئے۔حالانکہ یہ اگلا قدم ہے۔پہلے ہمیں یہ دیکھنا چاہئے کہ ہمیں قربانی کیوں نصیب نہیں؟ جو روحانی ترقی کے لئے ضروری چیز ہے۔لیکن انسان کہتا ہے، یہ ایک بوجھ ہے اور وہ اس طرف متوجہ نہیں ہوتا۔لیکن دوسری طرف وہ یہ کہتا ہے، مجھے روحانی ترقی نصیب ہو۔اس کی مثال تو ایسی ہے کہ انسان روٹی نہ کھائے لیکن یہ کہے کہ میری بھوک مٹ جائے۔پانی نہ پیئے لیکن یہ کہے کہ میری پیاس بجھ جائے۔لیکن کیا روٹی کھانے کے بغیر بھوک مٹ سکتی ہے؟ اور کیا پانی پینے کے بغیر پیاس بجھ سکتی ہے؟ اسی طرح عقلی ، جانی، وطنی اور مالی قربانی کے بغیر روحانی ترقی بھی نہیں مل سکتی۔انسان خدا تعالیٰ کا آئینہ تو ہوتا ہے، لیکن جس طرح شیشہ کے کارخانہ میں کوئی آئینہ اچھا بن جاتا ہے اور کوئی آئینہ ردی بن جاتا ہے، اسی طرح قانون قدرت کے کارخانہ میں کوئی انسان اچھا بن جاتا ہے اور کوئی خراب بن جاتا ہے۔اگر تم اپنی ذمہ داری کو سمجھ جاؤ تو میں سمجھ لوں گا کہ تم قربانی کوظلم نہیں سمجھتے۔بلکہ وہ تمہیں تمہاری نسل اور قوم کو زندہ رکھنے کا ایک ہی ذریعہ ہے۔اگر تم قربانی کرنے لگ جاؤ تو تم تمہارا ملک اور تمہاری قوم محفوظ ہو جاتی ہے۔420