تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 419 of 802

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 419

تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد سوم خطبہ جمعہ فرمود 260 نومبر 94 مدد کے لئے کھڑی ہوتی ہے، وہ اس سے مدد کے وعدے کرتا ہے۔لیکن اس مدد سے پہلے اسے کام کرنا پڑتا ہے، قربانی کرنی پڑتی ہے۔تب خدا تعالیٰ کی مدد سے حاصل ہوتی ہے۔کیونکہ اللہ تعالیٰ صرف کام نہیں چاہتا بلکہ وہ چاہتا ہے کہ دنیا میں نیکی پھیلے اور یہ کام بغیر قربانی کے نہیں ہوسکتا۔دل، مال و جان قربان کئے بغیر صاف نہیں ہوتے۔اگر تم نے انہیں صاف کرنا ہے تو جانی و مالی قربانی کرو۔اگر تم جان و مال قربان نہیں کرو گے تو تمہارے دل بھی صاف نہیں ہوں گے اور تم مردہ کے مردہ خدا تعالیٰ کے پاس جاؤ گے۔اس صورت میں وہ تمہیں جنت میں کیوں داخل کرے گا؟ یوں تو وہ اپنی ساری مخلوق سے محبت کرتا ہے لیکن انسان اسے تبھی زیادہ پیارا ہے کہ اس میں اسے اپنا چہرہ نظر آتا ہے۔جس طرح ہم کسی کے پانی کی نالی میں چل رہے ہوں اور اتفاق سے کسی جگہ نیچے نظر پڑے اور پانی میں سے ہمیں اپنی شکل نظر آجائے تو ہم اس کی طرف متوجہ ہو جاتے ہیں، اسی طرح انسان اگر چہ نہایت حقیر چیز ہے لیکن خدا تعالیٰ کو جب اس سے اپنا چہرہ نظر آتا ہے تو وہ اس کا پیارا اور محبوب ہو جاتا ہے۔بچپن میں ، میں نے ایک رو یاد یکھا، یہ غالبا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ کی بات ہے یا آپ کی وفات کے قریب کی۔یعنی چار، پانچ ماہ کے عرصہ کے اندر کی۔اس وقت حضرت خلیفہ اسی اول حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے مکان میں رہا کرتے تھے۔مرزا سلطان احمد صاحب مرحوم کے مکان کی طرف جو گلی جاتی ہے، اس کے اوپر جو کمرہ اور محن ہے، اس میں آپ کی رہائش تھی۔میں نے خواب میں دیکھا کہ میں اس صحن میں ہوں اور اس کے جنوب مغرب کی طرف حکیم غلام محمد صاحب امرتسری، جو حضرت خلیفہ اسیح اوّل کے مکان میں مطب کیا کرتے تھے، کھڑے ہیں۔ان کو میں سمجھتا ہوں کہ خدا تعالیٰ کے تصرف کے ماتحت ایسے ہیں، جیسے فرشتہ ہوتا ہے۔میں تقریر کر رہا ہوں اور وہ کھڑے ہیں۔میرے ہاتھ میں ایک آئینہ ہے، جسے میں سامعین کو دکھا تا ہوں۔ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہاں اور لوگ بھی ہیں مگر نظر نہیں آتے۔گویا ملائکہ یا اعلیٰ درجہ کے لوگ ہیں، جو نظروں سے غائب ہیں۔میں انہیں وہ آئینہ دکھا کر کہتا ہوں کہ خدا کے نور اور انسان کی نسبت ایسی ہے، جیسے آئینہ کی اور انسان کی۔آئینہ میں انسان اپنی شکل دیکھتا ہے اور اس میں اس کا حسن ظاہر ہوتا ہے اور وہ اس کی خوب قدر کرتا ہے اور سنبھال سنبھال کر اور گرد سے 419