تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 411
تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد سوم خطبہ جمعہ فرمودہ 26 نومبر 1954ء تحریک جدید کے ذریعہ تبلیغ اسلام کے زبردست کام کی بنیاد رکھی گئی ہے خطبہ جمعہ فرمودہ 26 نومبر 1954ء سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:۔" آج تحریک جدید کے نئے سال کے اعلان کا دن ہے۔تحریک جدید کے پہلے سال کا اعلان 1934ء میں ہوا تھا اور اب 1954ء میں اس پر بیس سال گزر چکے ہیں۔اور آج اکیسویں سال کا اعلان ہو رہا ہے۔اکیسواں سال انسانی زندگی میں ایک خاص اہمیت رکھتا ہے۔فقہا نے بھی اس سال کو خاص اہمیت دی ہے اور بہت سے دنیوی قانون بنانے والوں نے بھی اسے خاص اہمیت والا قرار دیا ہے۔انہوں نے اسے بلوغت کی عمر قرار دیا ہے۔گویا تحریک جدید اب بلوغت کو پہنچنے والی ہے۔اور جہاں تک اس کے کام کا سوال ہے، ہم کہہ سکتے ہیں کہ خدا تعالی کے فضل سے واقع میں اس کے ذریعہ تبلیغ اسلام کی زبر دست بنیاد رکھی گئی ہے۔جب یہ تحریک شروع ہوئی ، اس وقت ہمارے مبلغین کی تعداد نہایت محدود تھی۔چند مبلغ افریقہ میں تھے ، ایک مبلغ امریکہ میں تھا اور شاید تین مبلغ انڈونیشیا میں تھے۔باقی ممالک مبلغین سے خالی تھے۔لیکن اب مرکز کی طرف سے بھیجے گئے مبلغین اور بیرونی ممالک کے لوکل مبلغین کو ملایا جائے تو غالبا ان کی تعداد سو سے بھی بڑھ جائے گی۔ملکوں اور شہروں کے لحاظ سے یہ ترقی اور بھی حیرت انگیز اور وسیع ہے۔تحریک جدید سے پہلے یورپ میں صرف ایک مشن تھا لیکن اب پانچ مشن قائم ہیں۔ایک مشن سپین میں ہے، ایک مشن سوئٹزر لینڈ میں ہے، ایک مشن جرمنی میں ہے، ایک مشن ہالینڈ میں ہے اور ایک مشن انگلینڈ میں ہے۔اور اب ایسے سامان پیدا ہور ہے ہیں کہ اگر اللہ تعالیٰ نے چاہا تو سویڈن میں بھی ایک مشن قائم کر دیا جائے گا۔ہمارے ایک ڈچ نوجوان، جو کچھ عرصہ ہوا ، احمدی ہوئے تھے ، اس وقت سویڈن میں ہیں۔انہوں نے اپنے آپ کو اس مقصد کے لئے پیش کیا ہے۔انہوں نے لکھا ہے کہ میں کچھ عرصہ تک مرکز میں رہ کر دینی تعلیم حاصل کروں گا اور اس کے بعد سویڈن میں احمدیت اور اسلام کی تبلیغ کروں گا۔اسی طرح اللہ تعالیٰ نے چاہا تو آہستہ آہستہ یورپ کے بعض اور ممالک میں بھی مشن قائم ہو جائیں گے۔فرانس بھی نہایت اہم ملک ہے لیکن ابھی وہ خالی پڑا ہے، وہاں کوئی مبلغ نہیں۔اٹلی بھی نہایت اہم ملک ہے لیکن ابھی وہ بھی خالی پڑا ہے ، وہاں بھی ہمارا کوئی مبلغ نہیں۔یہ دونوں ممالک مغربی یورپ کے نہایت اہم ممالک ہیں اور ان دونوں کے بغیر مغربی یورپ کی تبلیغ کو مکمل نہیں کہا جا سکتا۔411