تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 404
اقتباس از خطبه جمعه فرموده 15 اکتوبر 1954ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد سوم نئے لوگ آگے لانے پڑے۔صحابہ کو یہ بات بری لگی۔لیکن حضرت عثمان نے فرمایا، میں مجبور ہوں۔میں تمہیں ان جگہوں پر بلاتا ہوں لیکن تم مدینہ سے باہر جانے پر راضی نہیں ہوتے۔لیکن حالت یہ تھی کہ اس وقت حکومت کے کام مصر، شام، فلسطین اور ایران تک پھیل چکے تھے اور پرانے لوگ یہ چاہتے تھے کہ وہ بڑے بھی بنے رہیں اور مدینہ سے بھی نہ نکلیں۔اور یہ چیز مشکل تھی۔نتیجہ یہ ہواکہ کئی قسم کی خرابیاں پیدا ہوگئیں۔اور نہ یہ کی بہر حال یہ خرابی اسی وقت پیدا ہوتی ہے، جب بڑے لوگ، جنہوں نے دین کی خدمت نہیں کی ہوتی ، وہ آگے آجاتے ہیں۔اور قوم انہیں یہ سمجھ کر سر پر اٹھا لیتی ہے کہ ہمارے بڑے لوگ آگے آگئے ہیں۔اور اس طرح قوم پر تباہی آجاتی ہے۔پس تم ضرورت وقت کو سمجھو اور اپنی ذمہ داریوں کا احساس کر کے اپنے اپنے خاندان کے نوجوانوں کو وقف کرو۔اور یہ وقف اتنی کثرت کے ساتھ ہونا چاہئے کہ اگر دس نو جوانوں کی ضرورت ہو تو جماعت سونو جوان پیش کرے۔مگر اب واقفین ملتے بھی ہیں تو بعد میں بھاگ جاتے ہیں۔اور ید ایسی شرمناک چیز ہے کہ اس کی موجودگی میں کوئی قوم شرفاء کے سامنے سر نہیں اٹھا سکتی“۔( مطبوعه روزنامه الفضل 20 اکتوبر 1954 ء ) 404