تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 402 of 802

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 402

اقتباس از خطبه جمعه فرموده 15 اکتوبر 1954ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد سوم حضرت خلیفہ امسیح اول جب بیمار ہو گئے تو آپ بعض دفعہ باہر آ کر لیٹ جاتے اور لوگ آپ کے ارد گر دا کٹھے ہو جاتے۔بیمار تھک بھی جاتا ہے۔جب آپ تھک جاتے تو فرماتے ، دوست اب چلے جائیں۔اس پر کچھ لوگ چلے جاتے اور کچھ بیٹھے رہتے۔کچھ دیر کے بعد آپ فرماتے ، میں اب تھک گیا ہوں ، احباب اب تشریف لے جائیں۔اس پر آٹھ ، دس آدمی اور چلے جاتے۔مگر چند آدمی پھر بھی بیٹھے رہتے اور وہ سمجھتے کہ ہم اس حکم کے مخاطب نہیں ہیں۔اس پر آپ تیسری بار فرماتے کہ اب چوہدری بھی چلے جائیں۔یعنی جو لوگ اپنے آپ کو قانون سے بالا سمجھتے ہیں، وہ بھی چلے جائیں۔مراد زمیندار اور جاٹ کی نہیں تھی۔بلکہ وہ لوگ مراد تھے، جو اپنے آپ کو قانون کی اطاعت سے مستنی سمجھتے تھے۔لیکن جب جماعت کو عزت ملے گی تو پھر یہی لوگ کہیں گے کہ نائی ، موچی اور دھوبی آگے آگئے ہیں۔اور وہ کوشش کریں گے کہ خود عزت حاصل کریں۔اس وقت جماعت کے اندر اگر غیرت پائی جاتی ہو تو اس کا فرض ہے کہ وہ انہیں پیچھے ہٹا دے اور کہے کہ جب ضرورت کے وقت تم نے خدمت نہیں کی تھی تو اب تمہیں آگے آنے کی اجازت نہیں۔لیکن بد قسمتی سے جب قوم کو عزت ملتی ہے اور مال زیادہ ہو جاتا ہے تو وہی چوہدری آگے آ جاتے ہیں۔قرآن کریم میں بھی اللہ تعالی فرماتا ہے کہ جب مال غنیمت آتا ہے تو منافق بھی آگے آجاتے ہیں۔اور جب انہیں کہا جاتا ہے کہ اب تم کیوں آئے؟ تو کہتے ہیں تم ہم پر حسد کرتے ہو۔ہر قوم میں یہی نظارہ نظر آتا ہے۔جب جنگ ہوتی ہے اور جانی قربانی کا وقت آتا ہے تو اس ٹائپ کے لوگ پیچھے ہٹ جاتے ہیں۔لیکن جب فتح اور عزت ملتی ہے تو یہی لوگ آگے آجاتے ہیں اور بدقسمتی سے قوم انہیں دھتکارتی نہیں۔وہ سمجھتی ہے کہ بڑے لوگ آگے آگئے ہیں۔حالانکہ ان کی بڑائی اسی دن ختم ہو جاتی ہے، جب وہ دین کی خدمت سے اپنا پہلو بچالیتے ہیں۔اگر قوم اس کریکٹر کو زندہ رکھے تو اس قسم کے لوگوں کی اصلاح ہو جائے۔لیکن قوم اس کریکٹر کو زندہ نہیں رکھتی۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد حضرت عمر کے زمانہ تک یہ کریکٹر مسلمان قوم میں زندہ رہا، اس کے بعد یہ کریکٹر مٹ گیا۔ایک دفعہ حضرت عمر کے دربار میں مکہ کے رؤساء آئے۔حضرت عمرؓ نے انہیں اعزاز سے بٹھایا۔لیکن وہ رؤسا ابھی باتیں ہی کر رہے تھے کہ حضرت سہیل آ گئے۔اس پر حضرت عمرؓ نے ان رؤسا سے کہا، آپ ذرا پیچھے ہٹ جائیں اور ان کے لئے جگہ چھوڑ دیں۔اور آپ نے سہیل سے باتیں کرنی شروع کر دیں۔اس کے بعد کچھ اور غلام صحابہ آئے تو آپ نے پھر ان سے فرمایا، آپ ذرا 402