تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 397 of 802

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 397

تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد سوم اقتباس از خطبه جمعه فرموده 15 اکتوبر 1954ء نے فرمایا، اللہ تعالی بعض دفعہ کسی کو دوسرے کی خاطر رزق دے دیتا ہے، تم ایسا نہ کرو ممکن ہے کہ ابو ہریرۃ کی خاطر ہی اللہ تعالیٰ تمہیں رزق دے رہا ہو۔لیکن اس نے آپ کی باتوں کی کوئی پرواہ نہ کی اور اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ابو ہریرۃ " خود فرماتے ہیں کہ بعض اوقات مجھے سات سات وقت فاقے آجاتے تھے لیکن اس کے باوجود آپ مسجد سے نہ ہلتے بلکہ سارا سارا دن وہیں بیٹھے رہتے۔اور اللہ تعالیٰ ان کے رزق کا سامان کر دیتا۔اب تم اللہ تعالیٰ کے رزق کے اور معنی کرتے ہو اور صحابہ اس کے اور معنی سمجھتے تھے۔وہ بے شک دنیا کے کام بھی کرتے تھے لیکن دین کو ہمیشہ مقدم رکھتے تھے۔یہاں تو گزارہ بھی ملتا ہے، چاہے وہ گزارہ کم ہی ہو لیکن ان کو یہ گزارہ بھی نہیں ملتا تھا، وہ اپنا اپنا کام کرتے تھے اور پیٹ پالتے تھے۔لیکن دینی کاموں کو نظر انداز نہیں کرتے تھے۔بلکہ دینی کام کو اپنے ذاتی کاموں پر ترجیح دیتے تھے۔اسی طرح حضرت عبداللہ بن عمرؓ تھے ، وہ بھی مسجد میں بیٹھے رہتے تھے۔اسی طرح بعض اور صحابہ تھے۔بعض کے نزدیک ان کی تعداد 300 تھی اور بعض کے نزدیک ان کی تعداد 80 کے قریب تھی۔انہیں اصحاب الصفہ" کہا جاتا تھا اور ان کا کام یہ تھا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے باتیں سنیں اور دوسرے صحابہ تک پہنچا دیا۔ان کو کوئی گزارہ نہیں ملتا تھا۔اگر کسی کی طرف سے کھانا آجاتا تھا تو کھا لیتے تھے، ورنہ کسی سے مانگتے نہیں تھے۔ایک عورت کے متعلق ذکر آتا ہے کہ وہ اصحاب الصفہ کو چقندر پکا کر بھیجا کرتی تھی اور وہ شوق سے انہیں کھاتے ہو تھے۔بعض دفعہ لوگ دودھ بھیج دیتے تھے اور وہ اسے پی لیتے تھے۔اب تو بہت زیادہ ترقی ہوگئی ہے، واقفین کے گزارے مقرر کر دیئے گئے ہیں، اس طرح کام بہت آسان ہو گیا ہے۔بشرطیکہ انسان اپنا زاویہ نگاہ بدل لے۔اگر جماعت کے لوگ اپنا زاویہ نگاہ صحابہ کی طرح بنالیں تو اب بھی ان کا ساطریق رائج کیا جا سکتا ہے۔اور اگر صحابہ سے کمزور ہوں تو موجودہ طریق پر وہ کام کر سکتے ہیں کہ معاوضہ بھی ملے اور قربانی بھی کریں۔پہلے لوگ مسجد میں بیٹھ جاتے تھے اور انہیں کوئی گزارہ نہیں ملتا تھا۔جو کچھ کسی کی طرف سے آجاتا، وہ کھالیتے۔لیکن اب یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ جو لوگ وقف کر کے آئیں، انہیں کچھ نہ کچھ رقم بھی دے دی جایا کرے۔لیکن باوجود اس کے کہ واقفین کے لئے گزارے مقرر کئے گئے ہیں، میں نے دیکھا ہے کہ اول تو لوگ وقف میں آتے ہی نہیں اور اگر آ جاتے ہیں تو شروع شروع میں وظیفے لیتے ہیں اور تعلیم حاصل کرتے ہیں اور جب تعلیم سے فارغ ہوتے ہیں تو مختلف بہانے بنا کر وقف سے بھاگ جاتے ہیں۔اور کہتے ہیں، ہمیں اب ہمارے حالات اجازت نہیں دیتے کہ وقف میں زیادہ عرصہ تک رہیں۔میں نہیں سمجھ سکتا کہ ان کے حالات پہلے کیوں اجازت دیتے تھے کہ وقف میں آئیں؟ اور بعد میں کیوں اجازت نہیں دیتے کہ وقف میں رہیں؟ 397