تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 392 of 802

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 392

اقتباس از خطبه جمعه فرموده 08 اکتوبر 1954ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد سوم ثابت ہوں۔لیکن چار سال ہو گئے ، ان کی طرف سے کوئی رپورٹ نہیں آئی۔دو، تین ماہ کے بعد میں نے انہیں پکڑا اور کہا کہ تم نے اب تک اس تحریک کے بارہ میں کیا کیا ہے؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ میں لڑکوں کو اکٹھا کر رہا ہوں، کچھ دنوں کے بعد اپنی رپورٹ پیش کر سکوں گا۔لیکن چار سال کا عرصہ گذر گیا، اب تک انہوں نے کوئی رپورٹ پیش نہیں کی۔اس عرصہ میں کئی لڑکے بھاگ گئے اور باہر کاموں پر لگ گئے۔جہاں پروفیسروں کی یہ حالت ہو، وہاں طالب علموں کی کیا حالت ہوگی؟ یہ تو ایسی ہی بات ہے، جیسے کہتے ہیں کہ مردہ باد اے مرگ عیسی آپ ہی بیمار ہے، یعنی اے موت ! تجھے خوشخبری ہو کہ میسی خود بیمار ہو گیا ہے اور وہ کسی کو زندہ نہیں کر سکتا۔جب پروفیسروں کی یہ حالت ہو کہ اگر ان کے سپر داتنا چھوٹا سا کام بھی کیا جائے ، جو اگر کسی چوڑھے کے سپر د بھی کیا جا تا تو وہ اسے کر لیتا لیکن وہ چار سال تک نہ کریں تو طلباء کا کیا حال ہوگا؟ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اگر اساتذہ اور طالب علم اپنی اصلاح نہیں کریں گے اور خدمت دین سے غفلت کریں گے تو خدا تعالیٰ کا کام بہر حال ہوتا چلا جائے گا۔لیکن یہ ضرور ہے کہ تم سے برکت چھین لی جائے گی۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک دفعہ ایک جنگ میں تشریف لے گئے اور اس میں خدا تعالیٰ نے آپ کو فتح دی۔اس وقت ملکہ نیا یا فتح ہوا تھا اور آپ کے ساتھ مکہ کے حدیث العہد لوگ بھی تھے۔آپ نے انہیں حدیث العہد سمجھ کر مال غنیمت کا بہت سا حصہ دے دیا اور مدینہ کے مسلمانوں کو نہ دیا۔اس پر ایک انصاری نوجوان نے کہا کہ خون تو ہماری تلواروں سے ٹپک رہا ہے لیکن محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مال اپنے رشتہ داروں کو دے دیا ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کوبھی یہ خبر پہنچی۔آپ نے انصار کو جمع کیا اور فرمایا، اے انصارا مجھے یہ خبر پہنچی ہے۔انہوں نے کہا، یا رسول اللہ ا یہ بات درست ہے۔لیکن ہم میں سے ایک بد بخت نو جوان نے یہ بات کہی ہے، ہم اس سے کلی طور پر بیزار ہیں۔آپ نے فرمایا، اے انصار! کہنے والے کے منہ سے بات نکل گئی اور دنیا کے سامنے آچکی۔میں تمہارے سامنے اس کی اصل حیثیت رکھ دیتا ہوں کہ آج جو کچھ ہوا ہے، اس کی دو شکلیں ہوسکتی ہیں۔تم یہ بھی کہہ سکتے ہو کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں پیدا ہوئے ، ان کے اپنے رشتہ داران کے دشمن ہو گئے اور انہوں نے آپ کو اور آپ کے ساتھیوں کو برا بھلا کہا، آپ پر مظالم کئے اور آخر اتنی سختیاں کیں کہ آپ کو مکہ سے نکلنا پڑا اور مدینہ تشریف لے آئے۔وہاں ہم نے آپ کو اور آپ کے ساتھیوں کو پناہ دی، انہیں اپنی جائیدادیں پیش کر دیں، اپنے مکان خالی کر دئیے۔غرض آپ کے لئے ہر ممکن قربانی کی اور اپنی جانوں کو آپ کی حفاظت کے لئے پیش کر دیا۔لیکن جب مکہ فتح ہو گیا تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں محروم کر دیا اور اموال اپنے رشتہ داروں کو 392