تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 391
تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد سوم اقتباس از خطبه جمعه فرمودہ ہے حالانکہ پاکستان یا ہندوستان، جس میں پاکستان اور بھارت شامل تھے، وہ ملک تعالی نے چن لیا ہے۔اگر خدا تعالیٰ کسی اور ملک کو زیادہ قابل سمجھتا تو وہ اپنا مسیح اس ملک میں مبعوث کرتا۔لیکن اس نے اپنے مسیح کی بعثت کے لئے ہمارے ملک کو چن کر ایک تو ہم پر احسان کیا اور دوسرے ہم پر اعتماد کا اظہار کیا، جس کا بدلہ دینا ہم پر فرض ہے۔حضرت ابن عباس سے ایک دفعہ کسی نے پوچھا کہ آپ کسی شخص کے لئے اس قسم کی دعا بھی کرتے ہیں، جس قسم کی دعا آپ اپنی ذات کے لئے کرتے ہیں؟ آپ نے کہا ، ہاں ، میں اس شخص کے لئے اس قسم کی دعا کرتا ہوں، جو مجھے آکر یہ کہتا ہے کہ مجھے آپ کے سوا اور کوئی دعا کرنے والا نظر نہیں آتا۔ایسے شخص کے لیے میں اس قسم کی دعا کرتا ہوں ، جس قسم کی دعا میں اپنی ذات کے لئے کرتا ہوں۔اس لئے کہ اس نے مجھ پر اعتماد کیا ہے۔اور چونکہ اس نے مجھ پر اعتماد کیا ہے، اس لئے اب میرا فرض ہے کہ اس کے اعتماد کے مطابق اس سے سلوک کروں۔اگر حضرت ابن عباس زید، بکر کے لئے اپنی جان لڑا دیتے تھے کہ اس نے آپ پر اعتماد کا اظہار کیا تو پھر یہ کتنے افسوس کی بات ہے کہ خدا تعالیٰ نے ہمیں اس لئے چنا کہ ہم اس کے دین کا جھنڈا بلند کریں اور اسے ہر ملک میں گاڑ دیں لیکن ایک حقیر سی دولت کے لئے ہم اس کے کام کو نظر انداز کر رہے ہیں۔آخر پاکستان کتنا بڑا ملک ہے؟ پاکستان کی حکومت چھوٹی سی حکومت ہے اور پھر اس میں جو حصہ تمہارا ہے، وہ کتنا ہے؟ اس میں تمہارا حصہ تو بہت ہی کم ہے۔اس معمولی سی دولت کو خدا تعالیٰ کے انتخاب پر مقدم کر لینا، کتنے افسوس کی بات ہے۔پس میں اس طرف توجہ دلاتا ہوں کہ یہ تمہارا اندھا پن ہے، اسے دور کرو۔یہ بیماری ہے، اس کا علاج کرو۔اگر تمہاری آنکھوں میں موتیا اتر آیا ہے، اگر تمہاری آنکھوں میں سگرے پڑتے ہیں، اگر تمہاری آنکھوں میں سفیدہ پڑتا ہے تو تم اس کا علاج کراتے ہو۔اب اس سے زیادہ سفیدہ ، موتیا اور مکرے اور کیا ہوں گے کہ تم دنیوی مقاصد کو خدا تعالیٰ کے دین پر مقدم رکھتے ہو؟ یہ بڑا سخت سفیدہ ہے، یہ بڑے سخت لکرے ہیں، جو تمہاری روحانی بینائی کو تباہ کر رہے ہیں۔پس میں سکول کے اساتذہ اور کالج کے پروفیسروں کو توجہ دلاتا ہوں کہ وہ اس طرف توجہ کریں اور طلباء کو وقف کی طرف لائیں۔میں نے لاہور میں ایک واقف زندگی پروفیسر سلطان محمود صاحب شاہد کو ایک دفعہ تحریک کی کہ تم طلبا کے رجحانات کا جائزہ لے کر وہ مضامین تجویز کرو، جوان کے لئے آئندہ زندگی میں مفید 391