تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 390 of 802

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 390

اقتباس از خطبه جمعه فرموده 08 اکتوبر 1954ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد سوم - کے لئے نہیں بلکہ ایسے زمانہ کے لئے ہے، جسے اسلام نے نہ ختم ہونے والا کہا ہے۔اور جو زمانہ نہ ختم ہونے والا ہو ، وہ بہر حال تین کروڑ یا تین ارب یا تین کھرب سال سے زیادہ ہوگا۔اور اتنے لمبے عرصہ کے فائدہ کو چند سالہ فائدہ کے لئے نظر انداز کر دینے والا عظمند نہیں کہلا سکتا۔میں نے سنا ہے کہ اس سال مدرسہ احمدیہ میں صرف ایک طالب علم داخل ہوا ہے۔اس میں کسی حد تک سکول والوں کی ناتجربہ کاری کا بھی دخل ہے۔جب سید محمود اللہ شاہ صاحب " فوت ہوئے اور موجودہ ہیڈ ماسٹر مقرر ہوئے تو انہیں یہ خیال نہ آیا کہ سال بھر طلباء کو وقف کی طرف توجہ دلاتے رہیں۔سید محمود اللہ شاہ صاحب اس کے لئے سال بھر کوشش کرتے رہتے تھے اور مجھے وقتا فوقتا بتاتے رہتے تھے کہ میں نے اتنے لڑکوں سے وقف کا وعدہ لیا ہے۔اور اس طرح مدرسہ احمدیہ میں کچھ نہ کچھ طلباء آ جاتے تھے۔لیکن اب جو نئے ہیڈ ماسٹر مقرر ہوئے، انہوں نے یہ سمجھ لیا کہ وقف کی تحریک تو جاری ہی ہے، طلبا ء خود بخود وقف کی طرف آجائیں گے۔اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ گزشتہ سال طلباء کو اس کا احساس پیدا نہ ہوا۔اگر وہ سال کے شروع سے ہی کوشش کرتے اور طلباء کو وقف کی طرف توجہ دلاتے رہتے تو کچھ نہ کچھ طلباء وقف میں آ جاتے۔ایک کلاس پر کئی ہزار روپے سالانہ خرچ آتا ہے۔اگر ایک طالب علم ہو تب بھی یہ خرچ آئے گا اور اگر پچاس طالب علم ہوں ، تب بھی یہ خرچ آئے گا۔گویا اس سال ایک طالب علم پر پچاس گنا خرچ کرنا پڑے گا۔اور اگر خدانخواستہ لڑکا امتحان میں فیل ہو گیا تو ایک سال خالی رہ جائے گا اور یا پھر اس کلاس میں صرف فیل شدہ لڑ کے داخل کرنے پڑیں گے۔میں دیکھتا ہوں کہ بیرون ہندوستان کی جماعتوں میں وقف کی تحریک کی طرف اب زیادہ توجہ پیدا ہورہی ہے۔اس سال امریکہ سے تین، چار نو جوانوں کی طرف سے درخواستیں وصول ہو چکی ہیں کہ ہم دینی تعلیم کے حصول کی خاطر پاکستان آنا چاہتے ہیں۔یورپ سے دو، تین نو جوانوں کی درخواستیں آئی ہیں، وہ بھی دینی تعلیم کی خاطر مرکز میں آنا چاہتے ہیں۔اسی طرح انڈونیشیا، سیلون اور افریقہ سے بھی بعض نو جوانوں کی درخواستیں وصول ہوئی ہیں۔گویا جن ممالک میں آمد میں زیادہ ہیں، ان ممالک سے وقف کی درخواستیں آ رہی ہیں۔یورپ میں معمولی سی تعلیم کے ساتھ لوگ جس قدر آمد پیدا کر لیتے ہیں، پاکستان کے رہنے والے نہیں کر سکتے۔لیکن ان لوگوں کی طرف سے درخواستیں موصول ہورہی ہیں۔ہم انہیں اس لئے نہیں بلاتے کہ پہلے جوطلباء آچکے ہیں، وہ ابھی تعلیم سے فارغ نہیں ہوئے۔غرض جہاں دفتر میں بیرونی ممالک کے احمدیوں کی بارہ، تیرہ درخواستیں پڑی ہوئی ہیں، وہاں پاکستان کے احمدیوں کی توجہ اس طرف بہت کم ہے۔390