تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 387 of 802

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 387

تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد سوم خطبہ جمعہ فرموده 12 فروری 1954ء رہی۔اگر کوئی شخص اپنی طالب علمی میں چندہ دیتا ہے تو وہ چندہ اب آئندہ تحریک جدید میں حصہ لینے میں روک نہیں بنے گا۔پہلے چھوٹے بچوں سے چندہ لینے سے دفتر والے گھبراتے تھے اور وہ سمجھتے تھے کہ اگر ہم نے ان سے چندہ لے لیا تو تحریک جدید کی مقرر کردہ مدت دس سال یا انیس سال ان کی طالب علمی میں ہی گزر جائے گی۔جب یہ جوان ہوں گے اور کمانے لگیں گے تو ہم ان سے چندہ نہیں لے سکیں گے۔لیکن اب تو یہ روک بھی نہیں کیونکہ اب یہ چندہ ہمیشہ کے لئے ہے۔دسویں سال کے بعد جب میں نے دوبارہ تحریک کی تو مجھے خیال تھا کہ چندہ میں کمی آجائے گی۔اسی طرح دس سال کے ختم ہونے پر بھی میں سمجھتا ہوں کہ کچھ کمزوری پیدا ہوگی۔مگر جو لوگ اس دفعہ شامل ہو گئے تو اس کے بعد کمزوری ایمان کی وجہ سے کوئی شخص پیچھے ہٹے تو ہٹے، ورنہ ہر احمدی آگے بڑھنے کی کوشش کرے گا۔کیونکہ جب وہ اپنی قربانیوں کے نتائج دیکھے گا تو اس کی ہمت بڑھ جائے گی اور وہ سمجھے گا کہ میرا روپیہ ضائع نہیں ہو رہا۔پس سب سے اہم سوال یہ ہے کہ ہر شخص کو کھینچ کر تحریک جدید میں شامل کر دیا جائے۔ممکن ہے، پھر بھی کوئی شخص رہ جائے ، وہ دوسرے سال شامل ہو جائے گا۔جب سب کو عادت پڑ جائے گی تو میں سمجھتا ہوں ، ہمارا چندہ اس قدر بڑھ جائے گا کہ جماعت کے لئے اسلامی ممالک کے لڑکوں کو تعلیم دلانا بھی آسان ہو جائے گا اور غیر اسلامی ملکوں میں تبلیغ کا کام بھی وسیع ہو جائے گا۔اور خدا تعالیٰ کے فضل سے غیر مسلموں کو گمراہی اور ضلالت سے بچانے کا سہرا صرف احمدیوں کے سر ہوگا“۔مطبوعه روز نامه ا صح 11 مارچ 1954 ء ) 387