تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 381 of 802

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 381

تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد سوم خطبه جمعه فرموده و 12 فروری 1954ء بھیجیں۔کوئی پیسہ بچتاہی نہیں، والدین کو کہاں سے دیں ؟ غرض ان ممالک کے حالات اس قسم کے ہیں کہ ان کا لوگوں کی محنت کو دیکھ کر مایوسی ہوتی ہے کہ ایسے حالات میں ہم انہیں شکست کیسے دیں گے؟ لیکن پھر بھی ان کے اندر ایک احساس کمتری پیدا ہورہا ہے اور وہ سمجھتے ہیں کہ کوئی ایسی چیز ہے، جوان کے پاس نہیں اور ایشیائیوں کے پاس ہے۔یہ احساس کمتری ابھی زیادہ نمایاں نہیں کہ بڑے اور چھوٹے سب لوگوں میں پایا جائے۔لیکن تاہم ایک طبقہ ان کے اندر ایسا پیدا ہو گیا ہے کہ جو سمجھتا ہے کہ ان کے پاس دولت ہے، مال ہے لیکن انہیں دل کا چین نصیب نہیں۔وہ لوگ شرابیں پیتے ہیں، سنیماد یکھتے ہیں، ناچ اور گانوں میں دن گزارتے ہیں لیکن جب نشہ اتر جاتا ہے اور وہ چار پائی پر جا کر لیٹتے ہیں تو انہیں یوں معلوم ہوتا ہے کہ ان کے اندر کوئی خلاء پایا جاتا ہے۔اور وہ خلاء سوائے تعلق باللہ اور دین کے اور کوئی چیز پر نہیں کر سکتی۔دنیا کی ہر نعمت کو حاصل کر لینے کے بعد بھی ان کے اندر یہ حسرت ہوتی ہے کہ کوئی چیز ایسی ہے، جو انہیں حاصل نہیں۔اور وہ حاصل ہونی چاہئیے۔خدا تعالیٰ سے محبت ، ایک ایسی نعمت ہے کہ جب وہ کسی شخص کو مل جاتی ہے تو دنیا کے سارے غم مٹ جاتے ہیں اور اسے کوئی حسرت باقی نہیں رہتی ، اسے کسی چیز کی خواہش پیدا نہیں ہوتی۔عارضی غم بے شک آتے ہیں ، مثلاً کسی کو کانٹا چبھ جائے تو اس کے نتیجہ میں اسے درد تو ہوتی ہے لیکن اسے کوئی شخص بیماری نہیں کہتا، اسی طرح عارضی تکلیفیں اور غم تو آتے ہیں لیکن یہ غیم ان کے رستہ میں روک نہیں بنتے۔اور اپنے اپنے درجہ کے مطابق انہیں امن اور آرام حاصل رہتا ہے۔حضرت خلیفۃ المسیح اول سنایا کرتے تھے کہ ایک بڑھیا تھی ، جو بہت نیک تھی۔ایک دن میرے دل میں یہ خواہش پیدا ہوئی کہ میں کسی طرح اس کی مدد کروں۔چنانچہ میں اس بڑھیا کے پاس گیا اور اس سے کہا کہ مائی میرے دل میں خواہش پیدا ہوئی ہے کہ میں کسی طرح تمہاری مددکروں۔تمہیں کوئی خواہش ہو تو مجھے بتاؤ تا میں اسے پورا کر کے دل کی خوشی حاصل کروں۔اس بڑھیا نے آپ کا نام لے کر کہا، نور الدین ! اللہ تعالیٰ نے مجھے بہت کچھ دیا ہے، مجھے کسی چیز کی ضرورت نہیں۔آپ نے کہا، مائی پھر بھی تم غریب عورت ہو، اگر کسی طرح میں تمہاری مدد کر سکوں تو یہ بات میرے لئے بڑی خوشی کا موجب ہو گی۔مگر اس بڑھیا نے پھر بھی یہی کہا، اللہ تعالیٰ نے مجھے سب کچھ دیا ہے، مجھے کسی اور چیز کی خواہش نہیں۔فلاں شخص کے گھر سے دو روٹیاں آجاتی ہیں، ایک روٹی میں کھالیتی ہوں، ایک روٹی میرا بیٹا کھالیتا ہے۔اور ایک لحاف ہمارے پاس ہے، جس میں ہم دونوں ماں بیٹا ایک دوسرے کی طرف پیٹھ کر کے سورہتے ہیں۔جب میرا بازو تھک جاتا ہے تو میں اپنے بیٹے سے کہہ دیتی ہوں ، بیٹا ذرا کروٹ بدل لو، تو وہ کروٹ کے 381