تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 380
خطبہ جمعہ فرموده 12 فروری 1954ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔۔جلد سوم (ادھر ہمارے بچوں کی یہ حالت ہے کہ تمیں تمہیں سال کے ہو کے ماں باپ کی امداد پر نظر لگی رہتی ہے۔میرے اپنے بچوں کا یہی حال ہے اور مجھے ہمیشہ فکر رہتا ہے کہ اس ہمت کے ساتھ انہوں نے دنیا کی اصلاح کیا کرنی ہے؟) یہی وجہ ہے ، ان کے اس قدر ترقی کر جانے کی۔ان کے بڑے آدمیوں کو دیکھ لو، ان میں سے اکثر ایک کنگال شخص کی حیثیت سے اٹھے ہیں۔ہمارے بڑے بھائی میرزا سلطان احمد صاحب مرحوم، جو مرزا عزیز احمد صاحب کے والد تھے۔ابھی احمدی نہیں ہوئے تھے کہ وہ یورپ گئے ، انہوں نے بتایا کہ جب میں یورپ گیا تو ایک شہر میں چند دوستوں سے مل کر ایک مکان کرایہ پر لیا۔ایک لڑکی اس مکان والوں کی خدمت کیا کرتی تھی۔ایک دن انہوں نے دیکھا کہ لڑکی رو رہی ہے اور اس کی آنکھیں رونے کی وجہ سے سوجی ہوئی ہیں۔ہم نے سمجھا کہ شاید اس کا کوئی رشتہ دار مر گیا ہے، جس کی وجہ سے وہ رو رہی ہے۔چنانچہ ہم نے اس سے دریافت کیا کہ اس کے رونے کا کیا سبب ہے؟ تو اس نے بتایا کہ اسے جو تنخواہ ملتی تھی، وہ اس کی جیب سے گر گئی ہے۔ہم جانتے تھے کہ اس لڑکی کے والدین کماتے تھے، بیکار نہیں تھے۔چنانچہ ہم نے اس لڑکی سے کہا تم روتی کیوں ہو؟ تم لاوارث تو نہیں ہو تمہارے والدین زندہ موجود ہیں اور وہ کماتے ہیں۔تمہیں رونے کی کیا ضرورت ہے؟ تو اس لڑکی نے ہمیں بتایا کہ میرے والدین مجھے ایک دن بھی روٹی نہیں دیتے۔ہمارے ملک میں اس قسم کی کوئی مثال نہیں پائی جاتی۔ماں باپ خود فاقے کریں گے اور اپنے بچوں کا پیٹ پالیں گے۔لیکن یورپین ممالک میں بچوں میں حوصلہ پیدا کرنے کے لئے یہ طریق جاری ہے کہ جب بچے جوان ہو جاتے ہیں اور کام کاج کرنے کے قابل ہو جاتے ہیں تو وہ ان سے کہتے ہیں جاؤ اور کما کر لاؤ۔عام طور پر ماں باپ اپنے بچوں سے کھانے کا خرچ لیتے ہیں لیکن بعض لوگ بچوں سے مکان کا کرایہ تک بھی لیتے ہیں۔وہ ان سے کہہ دیتے ہیں کہ مکان کے ایک کمرہ میں تمہاری چارپائی بچھی ہے، تم اس جگہ کا گراپہ دو لیکن ہمارے ہاں بچہ چھ سات سال کا ہوتا ہے تو پڑھنے کے لئے مدرسہ بھیجا جاتا ہے اور پھر وہ ہر سال فیل ہو جاتا ہے اور بعض اوقات وہ ہیں ہیں، پچیس پچیس سال کی عمر کا ہو جاتا ہے لیکن اس کے ماں باپ اس پر خرچ کرتے ہیں۔اور اس بچے کو یہ احساس بھی نہیں ہوتا کہ وہ اپنی تعلیم ہی مکمل کر لے۔پھر اکثر بچے ایسے ہوتے ہیں کہ جب وہ کمانے لگتے ہیں تو والدین کی مددنہیں کرتے۔وہ سمجھتے ہیں کہ ان پر صرف اپنی اولاد کی خدمت کرنا فرض ہے اور بعض نوجوان تو ایسے ہوتے ہیں، جو سنیما دیکھتے ہیں ، عیاشیاں کرتے ہیں۔لیکن جب کوئی ان سے کہے کہ میاں تم اپنے والدین کو بھی کچھ بھیجا کرو تو وہ کہہ دیتے ہیں، کوئی پیسہ بچے تو 380