تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 375
ریم خطبه جمعه فرموده 05 فروری 1954ء تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔جلدسوم - کو کہہ رہا ہے؟ اور تجھے پتہ ہے کہ وہ ٹنڈا کیسے بنا؟ جنگ احد میں ایک موقع پر اسلامی لشکر تر بتر ہوگیا، دشمن کے تیروں کا ساراز ور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف تھا۔کسی شخص کو جرات نہیں تھی کہ ان تیروں کے سامنے کھڑا ہوتا۔لیکن حضرت طلحہ آگے آئے اور انہوں نے سارے تیر اپنے ہاتھوں پر لئے۔اس کی وجہ سے ان کا ہاتھ ٹنڈا ہو گیا۔آپ تیرانداز تھے، آپ دشمن پر تیر بھی چلاتے تھے اور جب دشمن کی طرف سے تیر آتے تو آپ انہیں اپنے ہاتھوں پر لیتے۔اس لئے آپ کے اس ہاتھ کا گوشت اور ہڈیاں پچلی گئیں۔اس صحابی نے کہا، اب تجھے پتہ لگ گیا کہ ان کا ہاتھ کس طرح ٹنڈا ہو گیا تھا؟ اور تو یہ بھی سن لے کہ جب دشمن کے تیرانداز رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف تیر پھینکتے تھے تو حضرت طلحہ انہیں اپنے ہاتھ پر روکتے تھے۔اور جو تیر گرتے تھے، رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم انہیں اٹھاتے اور چونکہ اس وقت طلحہ یہی ایک شخص تھے، جو آپ کی حفاظت کر رہے تھے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم تیر اٹھاتے اور طلحہ سے مخاطب ہو کر فرماتے طلحہ تجھ پر میرے ماں باپ قربان ! یہ تیر لے اور دشمن پر چلا۔جس شخص کے متعلق رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہ فرماتے تھے کہ تجھ پر میرے ماں باپ قربان ، اسے تو ٹنڈا کہ رہا ہے۔غرض اس صحابی نے بتایا کہ جو شخص جنگ کی صفوں میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قرب میں کھڑا ہوتا ، وہ سب سے زیادہ بہادر کہلاتا تھا۔اس لئے کہ وہ سب سے زیادہ بوجھ اٹھاتا تھا۔سو تم بھی کہہ سکتے ہو کہ اس وقت اسلام کی جنگ میں دوسرے ملک اور قو میں اس طرح مالی قربانی نہیں کرتیں ، جس طرح کی قربانی کے لئے ہمیں کہا جا رہا ہے۔تم یہ بھی کہہ سکتے ہو کہ ان پر وہ بوجھ نہیں ، جو ہم پاکستانیوں پر ہے۔لیکن تم یہ بھی کہہ سکتے ہو کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور اسلام کی حفاظت کے لئے حضرت طلحہ کی طرح قربانی کرنے کا جو موقع ہمیں دیا گیا ہے، وہ دوسروں کو نہیں دیا گیا۔تم ان دونوں تشریحوں میں سے ایک تشریح کر سکتے ہو۔اگر تمہارا ایمان کمزور ہے تو تم کہہ سکتے ہو کہ ہم پر جتنا بوجھ ہے ، وہ دوسری قوموں پر نہیں۔لیکن اگر تمہارا ایمان مضبوط ہے تو تم یہ بھی کہہ سکتے ہو کہ کئی قو میں بعد میں آئیں گی اور یہ بوجھ اٹھائیں گی لیکن آج ہم اکیلے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور اسلام کے سامنے کھڑے ہو کر تیر کھا رہے ہیں۔اور حقیقت یہی ہے کہ وہ شخص جو اس وقت اس قربانی میں حصہ لیتا ہے، وہ خدا تعالیٰ کے نزدیک ایسے ہی مقام پر کھڑا ہے، جس مقام پر حضرت طلحہ جنگ احد کے موقع پر کھڑے تھے۔آج بھی اسلام پر دشمن کی طرف سے تیر پڑ رہے ہیں۔جو شخص اشاعت اسلام میں حصہ لیتا ہے، وہ اپنی چھاتی پر تیر کھاتا ہے اور وہ اس مقام پر کھڑا ہوتا ہے، جس پر حضرت طلحہ کھڑے تھے۔اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس کے متعلق 375