تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 368
اقتباس از خطبہ جمعہ فرمودہ 22 جنوری 1954ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد سوم کہ دنیاد ہر بیت اور بے دینی کی طرف جارہی ہے۔لیکن میں سمجھتا ہوں کہ دنیاد ہر یت اور بے دینی کی طرف نہیں جارہی بلکہ عقل کی طرف جارہی ہے۔پہلے لوگ مولویوں اور پنڈتوں سے سن کر مذہبی باتیں مان لیتے تھے۔اگر پنڈت کہہ دیتے تھے کہ خدا تعالیٰ دنیا میں آکر ہمارے کاموں میں شریک ہو جاتا ہے تو وہ امنا و صدقنا کہہ دیتے تھے۔اگر پنڈت کہتے کہ خدا تعالیٰ بتوں میں آجاتا ہے اور ہم سے باتیں کرتا ہے تو وہ یہ باتیں مان لیتے تھے۔اگر پنڈت کہتے کہ خدا تعالیٰ کہتا ہے کہ تم اس کے خاص لوگوں میں سے ہو، تم دوسرے لوگوں کو مارتے پھرو تو لوگ کہتے ، یہ ٹھیک ہے۔لیکن اب ایسا نہیں۔اب اگر کسی کو کوئی بات کہو تو وہ کہتا ہے، پہلے مجھے سمجھاؤ کہ یہ کس طرح درست ہے؟ لوگ اس کا نام بے دینی اور دہریت رکھتے ہیں، لیکن میں سمجھتا ہوں کہ یہ سچائی کی جستجو ہے، جو عیسائیوں اور دوسرے مذاہب والوں میں پیدا ہو گئی ہے۔نئی پور کے ہر فرد میں یہ احساس پیدا ہو جانا کہ تم ہمیں سمجھاؤ تو ہم مانیں، یہ نہایت خوش قسمتی اور مفید احساس ہے۔اب وہی مذہب غالب آ سکتا ہے، جس کی بنیاد عقل پر ہو۔جس مذہب کی بنیاد عقل پر نہیں ، وہ مذہب ہارے گا۔اور جس کی بنیاد عقل پر ہے، وہ جیتے گا۔لوگ اسے دہریت اور بے دینی کہتے ہیں اور میں اسے دین کی جستجو اور اس کے لئے ایک تڑپ کہتا ہوں۔اللہ تعالیٰ دماغوں کو اس طرف مائل کر رہا ہے کہ وہ معقول باتوں کو مانیں اور غیر معقول باتوں کو رد کریں۔پس دنیا اسلام کے کنارے پر کھڑی ہے اور وہ زبان حال سے پکار رہی ہے کہ مجھے اسلام دو، مجھے صداقت دوتا میں اسے مان لوں۔اس زریں موقع کو ہاتھ سے جانے دینا، بہت بڑی غفلت اور جرم ہے۔اسی سلسلہ میں، میں جماعت میں یہ تحریک کرتا ہوں کہ یکم فروری سے سات فروری تک تحریک جدید کا ہفتہ منایا جائے۔ہر جگہ پر ایک بار یا دو دو، تین تین بار جلسے کئے جائیں اور جماعت کے ہر فرد کے پاس جماعت کے مخلصین پہنچیں اور اسے اس تحریک میں شامل کریں۔میں نے مخلصین کا لفظ اس لئے کہا ہے کہ میں تسلیم کرتا ہوں کہ جماعت کا کچھ حصہ کمزور ہے۔اس لئے میں کہتا ہوں کہ مخلصین کمزوروں کے پاس پہنچیں تا ان میں سے بھی کوئی یہ نہ کہہ سکے کہ اسے تحریک جدید میں شامل کرنے کے لئے کوئی تحریک نہیں ہوئی۔اور پھر جو شخص ایک دفعہ تحریک جدید میں حصہ لے گا اور یہ سمجھ کر حصہ لے گا کہ یہ تحریک قیامت تک چلنے والی ہے، وہ پیچھے نہیں ہٹے گا۔اب بعض لوگ ایسے ہیں، جو پیچھے ہٹ گئے ہیں یا انہوں نے اپنے سابقہ وعدوں کے مقابل پر صرف پندرہواں ، سولہواں یا بیسواں حصہ چندہ لکھوایا ہے۔لیکن وہ بھی ہیں، جنہوں نے پہلے سے بھی بڑھ کر اس میں حصہ لیا ہے۔368