تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 367 of 802

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 367

تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد سوم اقتباس از خطبه جمعه فرموده 22 جنوری 1954ء ہیں کہ فلاں شخص نے نماز میں پڑھی یا ا نے کو نہیں دی اس لئے رسول کریم صلی الہ علیہ سلم اس کی سفارش کریں گے۔آپ کی شفاعت اس لئے ہوگی کہ ان لوگوں نے سارا زور لگا کر نمازیں پڑھی ہیں ، سارا زور لگا کر روزے رکھے ہیں لیکن پھر بھی کچھ کر رہ گئی ہے۔انہوں نے اچھی طرح حج کیا ہے لیکن پھر بھی اس میں کسر رہ گئی ہے۔انہوں نے پورا زور لگا کر ز کوۃ دی ہے، لیکن پھر بھی اس میں کچھ کسر رہ گئی ہے۔اس کسر کو پورا کرنے کے لئے میں ان کی سفارش کرتا ہوں۔انہوں نے پورا زور لگا کر اعمال صالحہ کئے ہیں، لیکن پھر بھی کچھ کسر رہ گئی ہے۔آپ رحیم و کریم ہیں ، آپ یہ کسر پوری کر دیں۔پس خدا تعالیٰ سے شفاعت کرنے کے لئے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کوئی چیز تو ہونی چاہئے کہ یہ شخص اخلاص سے کام کر رہا تھا لیکن اس کی کوششوں میں کمی رہ گئی ، آپ اس کمی کو پورا کر دیں۔تم ب کسی سے کہتے ہو کہ میر افلاں کام کر دو۔یا کسی سے سفارش کرواتے ہو تو ساتھ ہی یہ دلیل دیتے ہو کہ فلاں وجہ ہے، جس کی بناء پر مجھے یہ حق حاصل ہے۔پس اگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم خدا تعالیٰ کے پاس شفاعت کے لئے جائیں گے تو آپ کے پاس کوئی نہ کوئی دلیل ہونی چاہئے ، جس کو پیش کر کے وہ خدا تعالیٰ سے شفاعت کر سکیں۔اور وہ یہی ایک چیز ہے کہ ہم نے خدا تعالیٰ کے دین کی خدمت کر کے اسے زندہ کیا تھا، اب وہ ہمیں زندہ کرے۔ہم نے خدا تعالیٰ سے سودا کیا تھا، سو ہم نے اپنی شرط پوری کر دی، اب وہ اپنی شرط پوری کرے۔یہی ایک دلیل ہے، جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خدا تعالیٰ کے سامنے پیش کر سکتے ہیں اور اس کا فضل حاصل کر سکتے ہیں۔پس مت سمجھو کہ یہ کوئی معمولی کام ہے۔یہ مت سمجھو کہ اسے نظر انداز کر کے تم اپنی روحانیت کو سلامت رکھ سکتے ہو یا قیامت کو خدا تعالیٰ کے فضلوں کا مطالبہ کر سکتے ہو۔خدا تعالیٰ کے فضلوں کا مطالبہ کرنے کے لئے کسی غیر معمولی چیز کی ضرورت ہوتی ہے۔اپنے رستہ سے ہٹ کر کوئی چیز ہے، جو انسان کو خدا تعالیٰ کے فضلوں کا وارث بنادیتی ہے۔اور یہ کام یعنی خدمت اسلام رستہ سے ہٹ کر ہے۔تم کہہ سکتے ہو کہ اے خدا ! باقی کام تو ہم اپنے نفسوں کے لئے کرتے رہے ہیں لیکن یہ کام ہم محض تیرے لئے کرتے رہے ہیں۔اور ان لوگوں کے لئے کرتے رہے ہیں، جو دوسرے ممالک میں رہتے تھے۔پس میں جماعت کو توجہ دلاتا ہوں کہ وہ اپنے فرائض کو سمجھے۔اسے کوشش کرنی چاہئے کہ قربانی کے لئے چھلانگیں مار کر آگے آئے تا کہ ہم جلد سے جلد اسلام کی اشاعت کر سکیں۔اب دنیا کنارے پر لگ چکی ہے، اسے صرف ایک ٹھوکر کی ضرورت ہے۔طبائع میں سلامت روی پیدا ہو چکی ہے۔لوگ سمجھتے ہیں 367