تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 362
اقتباس از خطبہ جمعہ فرمودہ 22 جنوری 1954ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد سوم کپڑے پہنائے۔اور اگر میرا ایک ادنیٰ سے ادنی بندہ بیمار ہوا اور تم نے اس کی عیادت کی تو تم نے میری ہی عیادت کی۔پس چونکہ میں بھوکا تھا تم نے مجھے کھانا کھلایا۔میں پیاسا تھا تم نے مجھے پانی پلایا۔میں نگا تھا تم نے مجھے کپڑا پہنایا۔میں بیمار تھا تم نے میری عیادت کی۔اس لئے آج میں بھی تم کو ایسے گھر میں جگہ دوں گا ، جہاں تمہیں ہر قسم کا رزق اور آرام ملے گا۔اور اگر خدا تعالیٰ کے کسی کمزور سے کمزور بندے کو رزق دینا ، خدا تعالی کو رزق دینا ہے۔اگر اس کے کمزور سے کمزور بندے کو پانی پلانا، خد تعالی کو پانی پلانا ہے۔اگر اس کے کمزور سے کمزور بندے کو کپڑے پہنانا ، خدا تعالیٰ کو کپڑے پہنانا ہے تو دین تو اس کی ساری صفات کا جامع ہے۔دین اسلام کیا ہے؟ دین اسلام خدا تعالیٰ کی ربوبیت، رحمانیت، رحیمیت اور مالکیت کی صفات کو بیان کرنے والا ہے۔جو شخص اس دین کی اشاعت کے لئے کوشش نہیں کرتا، وہ خدا تعالیٰ کو دنیا میں زندہ کرنے کی کوشش نہیں کرتا۔گویا خدا تعالیٰ کا وجود اسلام کے ذریعہ آتا ہے۔جو شخص اسلام کو زندہ کرتا ہے، وہ دنیا کے لحاظ سے خدا تعالیٰ کو زندہ کرتا ہے اور جو شخص اسلام کو زندہ نہیں کرتا ، وہ دنیا کے لحاظ سے خدا تعالیٰ کو مارتا ہے۔خدا تعالیٰ تو ہر وقت عرش پر موجود ہے اور وہ ہمیشہ زندہ رہے گا۔لیکن جہاں تک ہمارا تعلق ہے، وہ زندہ بھی ہوتا ہے اور مرتا بھی ہے۔جب لوگوں کی توجہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ہٹ جائے اور اس کی طرف ان کا دھیان نہ رہے تو ان کے لئے خدا تعالیٰ مرا ہوا ہو گا۔اور جب لوگوں کی توجہ خدا تعالیٰ کی طرف ہو تو ان کے لئے خدا تعالیٰ زندہ ہو گا۔غرض اسلام کی اشاعت میں ہی خدا تعالیٰ کی زندگی ہے اور اس کی اشاعت کو ترک کرنا گویا خدا تعالیٰ کی موت ہے۔پس جو شخص اسلام کی اشاعت میں حصہ لیتا ہے ، وہ خدا تعالیٰ کو زندہ کرتا ہے اور جو شخص اسلام کی اشاعت میں حصہ نہیں لیتا ، وہ خدا تعالیٰ کی زندگی سے لا پرواہ ہے۔اور جو شخص خدا تعالیٰ کی زندگی سے لا پرواہ ہے، اس کا یہ امید رکھنا کہ خدا تعالیٰ اسے زندہ رکھے گا، بیوقوفی کی بات ہے۔آخر یہ ایک سودا ہے، جو تم نے خدا تعالیٰ سے کیا ہے۔اگر تم اپنا حصہ پورا ادا نہیں کرتے تو خدا تعالیٰ اپنا حصہ کیوں پورا کرے؟ میں نے تم پر واضح کر دیا تھا کہ تبلیغ اسلام ہمیشہ کے لیے ہے، اس لئے اگر میرے منہ سے 19 کا لفظ نکل گیا تو کیا تم یہ کہو گے کہ اب تبلیغ اسلام نہیں کی جائے گی ؟ جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مدینہ میں تشریف لائے تو آپ نے بھی اسی قسم کی ایک بات کہی۔مدینہ آنے سے قبل رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ذہن میں یہ بات نہیں تھی کہ مکہ کے لوگ مدینہ پر حملہ کریں گے اور ان کی مسلمانوں سے لڑائیاں ہوں گی۔اس لئے جب انصار مدینہ نے آپ کے سامنے یہ بات پیش کی کہ آپ مدینہ تشریف 362