تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 361
اقتباس از خطبه جمعه فرموده 22 جنوری 1954ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد سوم لیکن میں نے جو جواب دیا، وہ یہ تھا کہ پیر صاحب یہ بات تو دریا کی چوڑائی پر منحصر ہے۔اگر دریا محدود ہے تو جب کنارہ آجائے گا، اس شخص کا کشتی میں بیٹھے رہنا بے وقوفی کی بات ہوگی۔لیکن اگر وہ دریا غیر محدود ہے تو اگر ہم سمجھیں گے کہ دریا کا کنارہ آگیا تو یہ بے وقوفی ہوگی۔پس جہاں ہم اترے، وہیں ڈوبے۔اب آپ بتائیے کہ آپ محدود دریا کے متعلق پوچھ رہے ہیں یا غیر محدود دریا کے متعلق پوچھ رہے ہیں؟ اب یہاں سوال تو خدا تعالیٰ کا تھا، جو غیر محدود ہے۔اسے وہ محدود کیسے کہتا ؟ اس لئے وہ کہنے لگا کہ بات ٹھیک ہے، میں سمجھ گیا ہوں کہ جب دور یا غیر محدود ہوتو جہاں ہم کشتی سے اتریں گے، وہیں ڈوبیں گے۔وہی بات میں اب کہتا ہوں کہ تبلیغ اسلام کا کام قیامت تک ہے۔جس نے یہ کام چھوڑ ا، مرا۔کھانا چھوڑ دینے سے جسمانی موت واقع ہو جاتی ہے اور تبلیغ اسلام کا فریضہ ترک کر دینے سے روحانی موت آجاتی ہے۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں نے مومنوں کے ساتھ سودا کیا ہے کہ ان کی جانیں اور مال میں نے ان سے لے لئے ہیں اور اس کے بدلہ میں، میں نے انہیں جنت دے دی ہے۔پس اللہ تعالیٰ بھی سودے کرتا ہے۔اگر ہم اسے زندگی نہیں دیتے تو وہ ہمیں زندگی کیوں دے؟ خدا تعالیٰ کی زندگی کے معنی یہ ہیں کہ اس کے دین کی تعلیم زندہ رہے۔اگر ہم اسلام کی زندگی کو قائم رکھ کر خدا تعالیٰ کوزندگی نہیں دیتے تو خدا تعالیٰ بھی ہمیں زندگی نہیں دے گا۔لیکن اگر ہم اس کو زندہ رکھتے ہیں تو خدا تعالیٰ قیامت کے دن ہمیں کہے گا کہ تم نے مجھے زندگی دینے کی کوشش کی ، اس لئے اب میں بھی تمہیں زندگی دوں گا۔یہ مت سمجھو کہ خدا تعالیٰ کے لئے زندگی کا لفظ کیوں استعمال کیا گیا ہے؟ وہ تو جیبی و قیوم ہے، اس کے لئے زندگی کا لفظ استعمال نہیں کیا جاسکتا۔کیونکہ احادیث میں آتا ہے کہ قیامت کے دن جب بعض لوگ خدا تعالیٰ کے سامنے پیش ہوں گے تو ہ کہے گا تم جنت میں داخل ہو جاؤ۔کیونکہ میں بھوکا تھا تم نے مجھے کھانا کھلایا۔میں پیاسا تھا تم نے مجھے پانی پلایا۔میں بنگا تھا تم نے مجھے کپڑے پہنائے۔وہ لوگ کہیں گے ، یہ کیسے ہو سکتا ہے؟ تو تو رب العالمین ہے اور ہم تیرے بندے ہیں۔تیری شان تو بہت ارفع ہے۔تو کیسے بھوکا رہ سکتا ہے کہ ہم تجھے کھانا کھلا ئیں؟ تو کیسے پیاسا رہ سکتا ہے کہ ہم تجھے پانی پلائیں؟ تو کیسے نگارہ سکتا ہے کہ ہم تجھے کپڑے پہنا ئیں؟ اللہ تعالیٰ کہے گا، نہیں نہیں تم نے ایسا کیا ہے۔میرا ایک ادنیٰ سے ادنی بندہ جب تمہارے پاس آیا اور وہ بھوکا تھا اور تم نے اسے کھانا کھلایا تو میں ہی بھوکا تھا، جس کو تم نے کھانا کھلایا۔اور جب میرا ایک ادنیٰ سے ادنی بندہ تمہارے پاس آیا اور وہ پیاسا تھا اور تم نے اسے پانی پلایا تو میں ہی پیا سا تھا، جس کو تم نے پانی پلایا۔اور جب میرا ایک ادنیٰ سے ادنی بندہ تمہارے پاس آیا اور وہ نگا تھا تو تم نے اسے کپڑے پہنائے تو میں ہی نگا تھا ، جسے تم نے وہ۔361