تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 360 of 802

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 360

اور تحریک جدید - ایک البی تحریک۔۔۔جلد سوم اقتباس از خطبہ جمعہ فرمودہ 22 جنوری 1954ء ور مستشرقین کہتے ہیں کہ دوسرے مسلمان اور کہتے ہیں۔لیکن ان کے اتباع بہت کم ہوتے ہیں، اس لئے ان کی بات کو صرف چند افراد قیمت دیتے ہیں، عوام نہیں۔پس وہاں ہمارا نمائندہ جو کچھ کہتا ہے، لوگ اسے قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔اور اگر وہ باتیں انہیں معقول نظر آتی ہیں تو وہ مان لیتے ہیں۔اور وہی ممالک ہیں، جہاں تبلیغ اسلام مفید ہو سکتی ہے۔کیونکہ ان ممالک میں ہمارے پیچھے مولوی نہیں ہوتے ، جو یہ کہیں کہ یہ صیح اسلام نہیں۔بہر حال دوسرے ممالک میں ہمیں یہ سہولت میسر ہوتی ہے اور معقول طور پر قرآن کا پیش کردہ اسلام لوگوں تک پہنچانا آسان ہوتا ہے۔بس ایک ہی طریق ، جو تبلیغ اور خدمت اسلام کا ہمارے پاس ہے، اگر اس کی طرف توجہ نہ کی جائے تو اس سے بڑی بد قسمتی اور کیا ہوگی ؟ لیکن باوجود اس کے کہ یہی ایک طریق خدمت اسلام کا ہے محض اس لئے کہ میرے منہ سے 19 کا لفظ نکل گیا تھا، تحریک جدید کے وعدوں میں کمی واقع ہوگئی ہے۔گویا 19 کالفظ کیا نکلا، قیامت آگئی ، اب اور کسی چیز کی ضرورت ہی نہیں رہی۔غرض یہ لفظ لوگوں کے اندر کمزوری پیدا کر رہا ہے۔میں بتا چکا ہوں کہ در حقیقت 19 کا لفظ کوئی معنی نہیں رکھتا۔یہ لفظ مصلحت کے ماتحت خدا تعالیٰ نے میرے منہ سے نکلوایا تھا۔ورنہ خدمت دین اور تبلیغ اسلام کا کام وہ ہے، جو قیامت تک چلے گا۔اور قرآن کریم سے بھی اس کا پتہ لگتا ہے۔خدا تعالیٰ کہتا ہے کہ مسیح علیہ السلام کے منکر قیامت تک رہیں گے۔اب صاف ظاہر ہے کہ ایک مسلمان تو مسیح علیہ السلام کا منکر نہیں ہو سکتا، غیر مسلم ہی ان کے منکر ہو سکتے ہیں۔پس دوسرے لفظوں میں اس کے یہ معنی ہیں کہ غیر مسلم قیامت تک رہیں گے۔اور اگر یہ بات صحیح ہے کہ غیر مسلم قیامت تک رہیں گے تو یہ بات بھی ماننی پڑے گی کہ تبلیغ اور خدمت اسلام بھی قیامت تک رہے گی اور درمیان میں کوئی شخص اسے ختم نہیں کر سکتا۔ایک دفعہ قادیان میں ، میں نے جمعہ کی نماز پڑھائی تو بعد میں کسی شخص نے کہا کہ ایک پیر صاحب آئے ہوئے ہیں، وہ آپ سے کوئی بات دریافت کرنا چاہتے ہیں۔میں نے کہا، اچھا، پیر صاحب کو لے آئیں۔چنانچہ میں مسجد میں ہی بیٹھ گیا اور وہ پیر صاحب آگئے۔انہوں نے سوال کیا کہ آپ مجھے یہ بتائیں کہ اگر کوئی شخص کشتی میں سوار ہو اور دریا کے دوسرے کنارے پر جانا چاہتا ہوتو جب کشتی کنارہ پر لگ جائے تو وہ کشتی میں ہی بیٹھار ہے یا دوسرے کنارہ پر پہنچ کر کشتی سے اتر جائے؟ میرے دل میں اللہ تعالٰی نے معالیہ بات ڈال دی کہ یہ پیرا باحتی فقیروں میں سے ہے، جو یہ کہتے ہیں کہ نماز خدا تعالیٰ سے ملنے کے لئے ہوتی ہے، جب کسی کو خدا تعالیٰ مل جائے تو وہ نماز کیوں پڑھے؟ اس کا ایک جواب تو یہ ہوسکتا تھا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی وفات تک نماز پڑھتے رہے ہیں، اس لئے ہم بھی اپنی وفات تک نماز پڑھتے رہیں گے۔360