تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 356 of 802

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 356

اقتباس از خطبه جمعه فرمودہ 01 جنوری 1954ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد سوم خرچ کرلے تو اس کے لئے یہ کون سی مشکل بات ہے؟ یا اگر کسی شخص نے ایک کام سومنٹ خرچ کرنے تھے۔اور وہ اس میں 105 منٹ خرچ کرے تو یہ کون سی مشکل بات ہے؟ یا اگر کسی نے ایک جگہ 100 دن ٹھہر نا تھا اور وہ 105 دن ٹھہر جائے تو یہ کون سی مشکل بات ہے؟ اس چیز کا زائد فائدہ یہ ہوگا کہ اس کے اندر پانچ فیصدی زیادہ محنت کرنے کی عادت پیدا ہو جائے گی۔جو اس کے دوسرے کئی کاموں میں مفید ثابت ہوگی۔اس تجویز پر عمل کرنے سے بھی سلسلہ کی آمد بڑھ سکتی ہے اور دوستوں کو سلسلہ کے کاموں میں شمولیت کا موقع مل سکتا ہے۔پھر ایک تحریک میں نے یہ کی تھی کہ ہر آدمی اپنے ہاتھ سے کچھ نہ کچھ کام کرے اور اس سے جو آمد ہو، وہ اشاعت اسلام کے لئے دے۔چنانچہ دو عورتوں کی طرف سے کچھ چندہ آ بھی چکا ہے۔ایک عورت نے میری اس تقریر کے بعد کچھ کام کیا، اس سے دس آنہ کی آمد ہوئی ، جو اس نے تحریک جدید میں دی۔اور دوسری عورت کا جلسہ پر میں اپنی تقریر میں ذکر کر چکا ہوں کہ اس نے میری اس تقریر کے بعد تین کا رڈلکھ کر دیئے اور اس کے بدلہ میں تین پیسے حاصل کئے اور یہ تین پیسے اس نے تحریک جدید میں دے دیئے۔اگر ہر شخص کوئی نہ کوئی کام شروع کر دے اور اس کی آمد اشاعت اسلام کے لئے دے تو سلسلہ کی آمد میں کافی ترقی ہو سکتی ہے۔مثلاً میں نے اچھے اچھے افسروں کے متعلق معلوم کیا ہے، انہوں نے میری اس تقریر کے بعد اپنے لئے بعض کام سوچے ہیں۔مثلاً بعض افسروں نے یہ تجویز کیا ہے کہ وہ کسی دن اسٹیشن پر چلے جائیں گے اور مسافروں کا سامان گاڑی سے باہر نکال کر رکھ دیں گے اور اس طرح کچھ نہ کچھ آمد پیدا کریں گے۔گویا کسی نے کوئی کام سوچا ہے اور کسی نے کوئی۔اگر یہ روح جماعت میں پیدا ہو جائے تو چاہے اس کے نتیجہ میں کتنی کم آمد پیدا ہو، کم از کم اس کا اس قدر فائدہ تو ضرور ہو گا کہ جماعت کے اندر قربانی کی روح پیدا ہوگی۔دوسرے غریب اور امیر میں جو فرق آجکل پایا جاتا ہے ، وہ دور ہو جائے گا۔تیسرے ہر ایک شخص کی ذہنیت اس طرف مائل ہوگی کہ اسے اپنے مقررہ رستہ سے ہٹ کر بھی کوئی کام کرنا چاہئے۔میں اپنے لئے بھی سوچ رہا ہوں کہ کوئی ایسا کام نکالوں کہ دوسرے کاموں میں فرق پڑے بغیر میں اس کے نتیجہ میں کچھ آمد پیدا کر کے سلسلہ کو دے سکوں۔عام طور پر ایک زمیندار، ایک صناع یا ایک تاجر کوئی کام کرتا ہے تو وہ اپنے لئے کرتا ہے اور اس میں سے ایک حصہ خدا تعالیٰ کے لئے دے دیتا ہے۔لیکن یہ کام خالص خدا تعالیٰ کے لئے ہوگا اور اس سے جو آمد ہوگی ، وہ خالص اشاعت اسلام کے لئے ہوگی۔356