تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 348
اقتباس از خطاب فرموده 27 دسمبر 1953ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد سوم کے اس قرض کو اتار دیا۔در حقیقت قرض کو اتارنے کی یہ مثال بھی عورتوں ہی نے قائم کی ہے ، ورنہ مردوں میں اس کی مثال موجود نہیں۔وو تیسری تحریک میں عورتوں میں بھی اور مردوں میں بھی یہ کرنی چاہتا ہوں کہ ہم میں سے ہر شخص اپنے کاروبار ملازمت اور روزگار کے کام کے علاوہ اپنے ہاتھ سے کام کر کے کچھ زائد آمد پیدا کرنے کی کوشش کرے۔اور یہ زائد آمدنی اگر غریب ہو تو اس کا ایک حصہ اور امیر ہونے کی صورت میں اس کی ساری کی ساری سلسلہ کو بطور چندہ پیش کر دے۔مثلاً ہمارے ہاں ان پڑھ لوگوں کو خط لکھانے میں دقت پیش آیا کرتی ہے۔ہمارا ایک لکھا پڑھا آدمی یہ کر سکتا ہے کہ وہ ایسے لوگوں کو خط لکھ دے اور ان سے مثلاً پیسہ پیسہ وصول کرے اور پھر اس زائد آمدنی کو چندہ میں دے دے۔اپنے مقررہ کا روبار کے علاوہ ہاتھ سے کام کر کے زائد آمدنی پیدا کرنے سے جہاں سلسلہ اور اسلام کو فائدہ ہوگا، وہاں اس غریب اور امیر میں امتیاز کم ہوگا۔اور ان دونوں طبقوں میں جو بعد نظر آتا ہے، وہ دور ہوتا چلا جائے گا۔مسلمانوں کے بڑے بڑے بزرگوں سے متعلق تاریخ میں کثرت سے ایسے تذکرے آتے ہیں کہ وہ اپنے ہاتھ سے کام کر کے کمائی کیا کرتے تھے۔دراصل وہ اسی حکمت کو مد نظر رکھ کر کیا کرتے تھے۔عورتیں سوت کات کر یا پراندے اور ازار بند تیار کر کے میری اس تحریک پر عمل کر سکتی ہیں۔غرض میں چاہتا ہوں کہ ہم میں سے ہر ایک، چاہے وہ مرد ہو یا عورت، اس تحریک پر عمل کرے اور اپنے ہاتھ سے کام کر کے کچھ آمد پیدا کرے اور پھر اسے چندہ میں دینے کی کوشش کرے۔المصل (مطبوعہ اصلح 05 جنوری 1954 ء ) 348