تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 349
تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد سوم وو اقتباس از خطاب فرمودہ 27 دسمبر 1953ء تحریک جدید اب اپنے اہم ترین دور میں سے گزر رہی ہے خطاب فرمودہ 27 دسمبر 1953ء بر موقع جلسہ سالانہ میں نے 39ء میں ان سات زبانوں میں قرآن مجید کے تراجم شائع کرنے کی تحریک کی تھی، جرمنی، ڈچ، فرانسیسی، سپینش ، اٹالین ، روسی اور پرتگیزی۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے ان سات زبانوں میں سے ایک یعنی ڈچ زبان کا ترجمہ تو شائع ہو گیا ہے اوروہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے غیر معمولی طور پر مقبول ہورہا ہے۔جرمن زبان میں ترجمہ پریس میں جاچکا ہے، امید ہے کہ عنقریب وہ بھی شائع ہو جائے گا۔اس کے علاوہ چار اور تراجم بھی تیار ہیں، جو بہت جلد شائع ہو جائیں گے۔علاوہ ازیں اس سال افریقہ کی سواحیلی زبان میں بھی قرآن مجید کا ترجمہ شائع ہوا ہے۔ملائی زبان میں بھی ترجمہ مکمل ہو چکا ہے، اب طبع کرنے کا انتظام کیا جا رہا ہے۔گورکھی اور ہندی زبان میں بھی قرآن کریم کا ترجمہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے مکمل ہو چکا ہے۔اس طرح اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہماری جماعت کی طرف سے دنیا کی چودہ مشہور زبانوں میں قرآن کریم کے تراجم شائع ہوں گے۔جن میں سے آٹھ قریباً تیار ہو گئے ہیں اور باقی عنقریب ہو جائیں گے۔انشاء اللہ۔لیکن اصل ضرورت اب اس بات کی ہے کہ ہماری جماعت محض انہیں شائع کرنے پر اکتفانہ کرے بلکہ انہیں ساری دنیا میں وسیع پیمانے پر پھیلانے کی کوشش کرے۔اب تک ہم قرآن مجید کے مختلف حصے دنیا کے سامنے پیش کر کے اسلام کا حسن اسے دکھانے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔لیکن ظاہر ہے کہ کسی وجود کا محض ایک حصہ دکھانے سے عشق پیدا نہیں ہوا کرتا۔بلکہ پورا وجود دکھانے سے حسن اور خوبصورتی کا اصل احساس پیدا ہوا کرتا ہے۔اور چونکہ اسلام کی اصل خوبصورتی قرآن ہی سے ظاہر ہوتی ہے، اس لئے اب ہماری جماعت کے لئے موقع ہے کہ وہ قرآن مجید کے ان تراجم کی بہتر سے بہتر رنگ میں اور وسیع پیمانے پر اشاعت کرنے کی کوشش کرے تا دنیا قرآن کی صورت میں اسلام کے پورے حسن کو دیکھ سکے۔میں سمجھتا ہوں کہ قرآن کریم کے اردو ترجمے پر بھی ہمیں خاص زور دینے کی ضرورت ہے۔اس کے بغیر قرآن مجید کی برکات کو اردو دان طبقہ پورے طور پر حاصل نہیں کر سکتا۔قرآن مجید کی عربی عبارت بھی ضروری ہے اور بہت ضروری ہے۔لیکن جو لوگ عربی زبان سے پورے طور پر واقف نہیں ، ان کے 349