تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 313 of 802

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 313

تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد سوم خطبہ جمعہ فرمودہ 10 جولائی 1953ء گیا۔جہاں تک میری ذات کا سوال ہے، میں کہ سکتا ہوں کہ اس بارہ میں مجھ پر کوئی الزام نہیں۔کیونکہ میں نے اپنے دفتر انچارج کو اس طرف متواتر توجہ دلائی ہے۔مگر باوجود اس کے حقیقت یہی ہے کہ یہ چندہ میری طرف سے بھی ادا نہیں ہوا۔(میرے اس خطبہ کے بعد میرے دفتر کے انچارج نے چندہ ادا کر دیا۔( اور خود انجمن کی طرف سے بھی ادا نہیں ہوا۔اسی طرح جو احمدی مزارع ہیں، انہوں نے بھی اس تحریک کی طرف کوئی توجہ نہیں کی۔گویا جہاں تک میر اعلم ہے، سندھ کے زمینداروں کا اس تحریک میں قریباً صفر حصہ ہے، یہی حال تاجروں کا ہے۔کنری میں بھی اور نبی سر روڈ اور جھڈو میں بھی ہمارے احمدی تاجر پائے جاتے ہیں۔مگر انہوں نے بھی غفلت سے کام لیا ہے اور اس چندہ کی اہمیت کو نہیں سمجھا۔یہ چیز یا تو اس لئے پیدا ہوتی ہے کہ انسان کے پاس جوں جوں پیسے آتے جاتے ہیں، وہ سست اور غافل ہوتا چلا جاتا ہے اور یا پھر اس لئے پیدا ہوتی ہے کہ بعض لوگ اپنے آپ کو چودھری سمجھنے لگ جاتے ہیں اور خیال کرتے ہیں کہ جتنے حکم ہیں، وہ دوسروں کے لئے ہیں، ہمارے لئے نہیں۔حضرت خلیفہ اول رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی عادت تھی کہ آپ اپنے اوقات کا اکثر حصہ باہر ہی گزارتے تھے۔یہ میری عادت نہیں اور نہ ہی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ایسا کیا کرتے تھے۔بہر حال چونکہ آپ زیادہ تر باہر ہی تشریف رکھتے تھے ، اس لئے جب آپ کی طبیعت علیل ہوتی تو چونکہ بیمار آدمی بعض دفعہ دوسروں کی موجودگی کی وجہ سے تکلیف محسوس کرتا ہے، اس لئے جب آپ بیٹھے بیٹھے تھک جاتے تو فرماتے کہ اب لوگ چلے جائیں۔اگر اس وقت ہیں، بائیں آدمی آپ کے پاس ہوتے تو یہ بات سن کر بارہ، تیرہ آدمی چلے جاتے اور آٹھ ، دس بیٹھے رہتے۔آپ پانچ سات منٹ انتظار فرماتے اور پھر دوبارہ فرماتے کہ اب لوگ چلے جائیں، مجھے تکلیف ہورہی ہے۔اس عرصہ میں دو، چار اور نئے آدمی آپ کی مجلس میں آکر بیٹھ جاتے تھے۔آپ کی یہ بات سن کر چھ ، سات آدمی اور چلے جاتے اور چار، پانچ پھر بھی بیٹھے رہتے۔اس پر آپ پانچ ، دس منٹ اور انتظار فرماتے اور پھر فرماتے کہ اب چودھری بھی چلے جائیں۔یعنی میں دو دفعہ ایک بات کہہ چکا ہوں مگر ہر دفعہ کہنے کے بعد کچھ لوگ بیٹھے رہتے ہیں، جو سمجھتے ہیں کہ یہ حکم ہمارے لئے نہیں، دوسروں کے لئے ہے۔گویا وہ اپنے آپ کو چودھری سمجھتے ہیں۔اس لئے آپ فرماتے کہ اب چودھری بھی چلے جائیں۔تو کچھ لوگ دنیا میں ایسے بھی ہوتے ہیں، جو اپنے آپ کو چودھری سمجھتے ہیں۔وہ خیال کرتے ہیں کہ تمام احکام دوسروں کے لئے ہیں، ان کے لئے نہیں۔جب کہا جائے کہ چلے جاؤ تو وہ سمجھتے ہیں کہ یہ اوروں کے لئے حکم ہے، ہمارے لئے نہیں۔جب کہا جائے چندے دو تو وہ سمجھتے ہیں کہ دوسروں کو چندہ دینے 313