تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 309 of 802

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 309

تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد سوم خطبہ جمعہ فرمود و 23 جنوری 1953ء دین کرتا ہے کہ نہ صرف یہ کہ اسے اس خدمت کا معاوضہ نہیں ملتا بلکہ اسے الٹا جھاڑیں پڑتی ہیں، اسے گالیاں دی جاتی ہیں، اس کا درجہ ایمان اس شخص سے بلند ہے، جو خدمت دین کرتا ہے اور اسے اس کا معاوضہ ملتا ہے یا خدمت کرتا ہے اور اسے اس کا معاوضہ نہیں ملتا لیکن جھاڑیں بھی نہیں پڑتیں۔در حقیقت محبت کامل کا معیار ہی یہی ہوتا ہے۔اگر میں غلطی نہیں کرتا تو غالباً ابراہیم ادھم تھے ، جن سے دوزخ اور جنت کے متعلق سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا مجھے جنت اور دوزخ سے کیا غرض ہے؟ خدا تعالیٰ جہاں مجھے رکھنا پسند کرے گا، میں رہوں گا۔اگر وہ مجھے جنت میں رکھنا پسند کرے گا تو میں جنت کو پسند کروں گا اور اگر وہ مجھے دوزخ میں رکھنا پسند کرے گا تو میں دوزخ ہی کو پسند کروں گا۔پس جو شخص قطع نظر کسی معاوضہ کے دین کی خدمت کرتا ہے بلکہ نہ صرف قطع نظر کسی معاوضہ کے دین کی خدمت کرتا ہے بلکہ اسے معلوم ہے کہ اسے بجائے کسی معاوضہ کے الٹا جھاڑیں پڑیں گی اور اسے گالیاں کھانی پڑیں گی لیکن وہ پھر بھی خدمت سے باز نہیں آتا ، وہ یقینا خدا تعالیٰ کی محبت اور اس کے پیار کو جذب کرنے والا ہے۔اور اس میں کیا شبہ ہے کہ جب قیامت کے دن سب لوگ خدا تعالیٰ کے سامنے پیش ہوں گے تو انبیاء کے بعد سب سے مقدم وہ شخص ہوگا، جس کو دین کی خدمت کا نہ صرف یہ کہ معاوضہ نہ ملا بلکہ اسے جھاڑیں پڑیں، اسے گالیاں کھانی پڑیں لیکن وہ خدمت سے پھر بھی باز نہ آیا۔اگر روزہ رکھنے والوں کے متعلق رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے یہ فرمایا ہے کہ قیامت کے دن خدا تعالیٰ کہے گا کہ ان کا معاوضہ میں ہوں تو یقینا وہ لوگ ، جنہوں نے دین کی خدمت کی اور اس حالت میں خدمت کی کہ نہ صرف یہ کہ انہیں کوئی معاوضہ نہ ملا بلکہ انہیں جھاڑیں پڑیں ، انہیں برا بھلا کہا گیا، انہیں گالیاں دی گئیں، انہیں واجب القتل قرار دیا گیا، انہیں اخراج عن الوطن کی دھمکیاں دی گئیں۔انہیں خدا تعالیٰ قیامت کے دن کہے گا کہ اگر انسانوں کے پاس تمہارے لئے کوئی جگہ نہیں تو تمہاری جگہ میری گود میں ہے۔اور اگر انسانوں کے نزدیک تم واجب القتل قرار دئیے گئے تھے لیکن تم نے دین کی خدمت پھر بھی نہ چھوڑی تو تمہیں ہمیشہ کے لئے زندہ رکھنا مجھ پر فرض ہے۔پس تمہارے لئے خدا تعالیٰ نے اس نعمت کے دروازے کھولے ہیں، جس کے دروازے سینکڑوں سال سے دوسروں پر نہیں کھولے گئے۔سینکڑوں سال گزر گئے اور دنیا اس نعمت سے محروم رہی۔جب اسلام ترقی پر تھا، اس وقت اسلام کی خدمت کرنے والوں کی تعریف کی جاتی تھی ، ان کی قدر کی جاتی تھی۔لیکن آج جب اسلام نہ صرف باطنی لحاظ سے بلکہ ظاہری لحاظ سے بھی گر چکا ہے۔وہ نہ غیر مسلموں 309