تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 301 of 802

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 301

تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد سوم اقتباس از خطبه جمعه فرموده 05 دسمبر 1952ء کے متعلق جلد اعلان کیا جائے گا۔بہر حال ہر ایک احمدی کی کوشش یہی ہونی چاہیے کہ وعدے جلسہ سالانہ سے پہلے آجائیں۔تا آئندہ سال کا بجٹ تیار کرنے میں سہولت ہو۔اب چونکہ تحریک جدید ہمیشہ کے لئے ہے، اس لئے اگلے سال سے آگے بڑھنے کی جو پابندی تھی ، وہ نہیں رہے گی۔حالات اور آمد کی تبدیلی پر وعدے میں بھی تبدیلی ہو سکے گی۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ وصیت کی طرح تحریک جدید کے لئے آمد کا کوئی جزو مقرر نہیں۔لیکن یہ ضرور ہے کہ جس طرح وصیت کا چندہ آمد کے کم اور زیادہ ہونے کی وجہ سے بدل جاتا ہے، مثلاً سوروپے ماہوار آمد ہے تو دس روپے چندہ وصیت ہوگا اور اگر ساٹھ روپے آمد ہو گئی ہے تو چھ روپے ماہوار چندہ ہوگا، اسی طرح تحریک جدید میں بھی حالات کے تبدیل ہو جانے پر تبدیلی ہو سکے گی۔اگر ایک شخص پہلے سوروپے چندہ دیتا تھا اور بعد میں اس کے حالات بدل گئے، مثلاً ملازم تھا، ریٹائر ہو گیا تو اس کا چندہ تحریک جدید کم ہو سکتا ہے۔ایسے شخص کو چاہئے کہ وہ دفتر سے خط و کتابت کرے اور خط و کتابت کے بعد چندہ کو گھٹا لے یا آمد زیادہ ہوگئی ہے تو چندہ کو بڑھائے۔دفتر کو چاہئے کہ وہ ایسے لوگوں کے ساتھ تعاون کرے اور جو لوگ مستحق ہیں اور جن کی آمد کم ہوگئی ہے اور وہ اپنا چندہ گھٹانا چاہتے ہیں، ان کا چندہ گھٹا دیں۔لیکن ساتھ ہی ہمیں یہ امید رکھنی چاہیے کہ سلسلہ کا لحاظ رکھا جائے۔جہاں سلسلہ کمزور کی تائید کرتا ہے، وہاں سلسلہ یہ امید بھی کرتا ہے کہ جو مالدار ہو، وہ اپنا چندہ بڑھا بھی دے تا توازن قائم رہے۔اگر بعض لوگ چندہ کم کر دیں تو بعض لوگ چندہ کو زیادہ کر دیں۔زندہ قوموں میں یہی ہوتا ہے۔بہر حال یہ یا در رکھیں کہ اب یہ پابندی نہیں ہوگی کہ ہر شخص ہر سال وعدہ میں کچھ زیادتی کرے۔اگر آمد اچھی ہو جائے تو چندہ زیادہ کر دو اور اگر آمد کم ہو جائے تو دفتر سے خط و کتابت کر کے اپنا چندہ گھٹا دو۔اس میں شرم نہ کیا کرو۔اس سے آپ لوگ گنہ گار بنیں گے۔جب آمد کم ہو جائے تو یہ غلطی نہ کریں کہ آپ چپ چاپ بیٹھ جائیں۔بعض لوگ آٹھ ، آٹھ سال سے چندہ ادا نہیں کر رہے ہوتے لیکن لکھ دیتے ہیں کہ پچھلے سال میرا پانچ سو روپے کا وعدہ تھا بعض وجوہات کی وجہ سے میں ادا نہیں کر سکا، اس سال میں ایک ہزار روپے کا وعدہ کرتا ہوں۔اگلے سال وہ ہزار روپے بھی ادا نہیں کرتے اور ڈیڑھ ہزار روپے کا وعدہ کر دیتے ہیں۔سوال یہ ہے کہ جب تم نے چندہ ادا ہی نہیں کرنا تھا تو سیدھا دس کروڑ کا وعدہ کیوں نہ کر دیا ؟ یونہی رقوم لکھ دینے سے کچھ نہیں بنتا۔""۔پس دفتر کے کارکن وعدوں کو چیک کر لیں۔اگر کسی شخص کی یہ حالت ہے کہ وہ وعدہ ادا نہیں کر سکتا تو اس کو رد کر دیا جائے۔بعض خوشیاں جھوٹی ہوتی ہیں۔حقیقی خوشی یہ ہے کہ انسان کو نیکی کی توفیق 301