تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 300
اقتباس از خطبه جمعه فرموده 05 دسمبر 1952ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد سوم متکفل ہو ، تمہی اس کے مربی ہو اور تمہی اس کے محافظ ہو۔اس کا ولی اور محافظ تمہارے سوا اور کوئی نہیں۔نہ کوئی آج تمہارے سوا اسلام کی خبر پوچھنے والا ہے، نہ کوئی اس کی خاطر قربانی کرنے والا ہے اور نہ کوئی اس سے محبت کرنے والا ہے۔اگر تم غفلت کرو گے تو یہ مردہ ہو جائے گا اور اگر تم ہوشیار رہو گے تو یہ جیے گا۔اگر اس کی خاطر قربانی کرو گے تو تم کرو گے۔لیکن یا درکھو، اگر تم دین کے لئے قربانی کرو گے تو تم بھی زندہ رہو گے۔کیونکہ جو شخص خدا تعالیٰ اور اس کے دین کی خاطر قربانی کرتا ہے، خدا تعالیٰ اسے مرنے نہیں دیتا۔دنیا میں لوگوں پر فاقے آتے ہی ہیں، لوگوں پر مصائب اور آفات آتی ہی ہیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ پر بھی فاقے آئے ، مصائب آئے ، آفات آئیں اور ہم پر بھی مصائب، تکالیف اور فاقے آئیں گے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ نے ان فاقوں اور آفات و مصائب میں بھی دین کی خاطر قربانی کرنے سے دریغ نہیں کیا۔ہمیں بھی ان کی طرح نمونہ دکھانا ہوگا“۔" تمہیں خدا تعالیٰ نے وہ موقع عطا فرمایا ہے، جو سال، دو سال میں تو کیا دوسرے لوگوں کو صدیوں میں میسر نہیں آیا۔یہ عید سینکڑوں سال کے بعد آئی ہے۔عام عید آتی ہے تو لوگ گھروں میں خوشیاں مناتے ہیں، ان کے چہروں پر خوشی کے آثار نمایاں ہوتے ہیں۔لیکن تمہاری عید اور تمہارا چاند تو نرالا ہے۔دنیا کے مصائب اور آفات تمہارے دلوں کو افسردہ نہیں کر سکتیں۔دنیا کے رنج و آلام تمہارے چہروں پر غم کے آثار پیدا نہیں کر سکتے۔مخالفتیں تمہیں قربانی سے پیچھے نہیں ہٹا سکتیں۔اس لئے کہ تمہیں وہ کچھ ملا ہے، جو پچھلی تیرہ صدیوں میں دوسروں کو نہیں ملا۔خوش قسمتی سے یہ موقع نہ ہی کوئی صدیوں کے بعد ملا ہے۔صدیاں گزر جاتی ہیں اور یہ مبارک موقع کسی کو نہیں ملتا۔اور صدیاں گزرگئیں، یہ موقع کسی کو نہیں ملا۔یہ موقع بڑی قسمت کے ساتھ ملا کرتا ہے۔ایک لحاظ سے دین کا ضعف بھی انسان کے لئے طاقت کا موجب ہوتا ہے۔ان تکالیف اور مصائب کے وقت میں وہی لوگ قربانیاں کرتے ہیں، جو خدا تعالیٰ کے مقرب اور محبوب ہوتے ہیں، جو لوگوں کے لئے مثال اور نمونہ بنتے ہیں، جنہیں آنے والی نسلیں فخر کے ساتھ یاد کرتی ہیں۔ان کے کارناموں کو دیکھ کر وہ حسرت سے دعائیں کرتی ہیں کہ خدا تعالیٰ انہیں ان کے نقشے قدم پر چلنے کی توفیق دے۔تمہیں وہ دن نصیب ہوا ہے، تم اسے ضائع نہ کرو تم قربانیاں کرو۔دین کی خاطر ہر مصیبت اٹھاؤ اور اسلام کی خدمت کرنے میں برکت تلاش کرو۔خدا تعالیٰ تم سے محبت کرنے لگ جائے گا۔جیسا کہ ہر سال ہوتا ہے، میں نے اس سال بھی وعدوں کی آخری تاریخ 21 فروری مقرر کی ہے۔یعنی تمام وعدے 21 فروری تک ہو جانے چاہیں۔سوائے پاکستان کے باہر کے ملکوں کے، جن 300