تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 18 of 802

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 18

اقتباس از خطبه جمعه فرموده 13 فروری 1948ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد سو اگر تم نے خدا کے لیے اپنی زندگیاں وقف کی ہوئی ہیں تو تم پر اداسی کیوں طاری ہے؟ کسی تکلیف کے پہنچنے پر تمہارے اندر احساس کمتری کیوں پایا جائے؟ اگر تمہارا کوئی عزیز دنیا کماتا ہے تو تمہارے دل میں لالچ کیوں پیدا ہوتی ہے؟ کیا کسی کو پاخانہ کھاتے دیکھ کر تمہارے دل میں بھی رغبت پیدا ہوتی ہے؟ اگر تم نے صحیح طریق اختیار کیا ہوا ہوتا تو تم سمجھتے کہ وہ نجاست کھا رہا ہے اور ہمیں اس کی نسبت کھانے والے شخص سے گھن آنی چاہئے تھی ، نفرت اور کراہت آنی چاہئے تھی۔لیکن اگر تمہیں کراہت نہیں آتی تو تم بھی ویسے ہی مجرم ہو جیسے وہ۔فرق صرف یہ ہے کہ وہ ظاہری کا فر ہے تم باطنی کا فر ہو۔اور کوئی فرق نہیں۔اور اگر جس لائن کو تم نے اختیار کیا ہے اس کے فوائد تم پر روشن ہیں۔تم اپنی زندگی وقف کرنے کے بعد اپنے دلوں میں ایک عظیم الشان تغیر محسوس کرتے ہو تم یقین رکھتے ہو کہ یہ ایک بھاری نعمت ہے، جو تمہیں دی گئی ہے۔دنیا تمہاری نظروں سے اوجھل ہو جاتی ہے اور خدا ہی خدا تمہیں نظر آنے لگتا ہے۔اسی طرح تمہارے کاموں میں وہ اولوالعزمانہ شان پیدا ہو جاتی ہے کہ جو خدا کے بندوں میں پیدا ہونی چاہیے۔اور تم صرف مفوضہ کام کا بجالانا ہی کافی نہیں سمجھتے بلکہ تمہیں یہ بھی مدنظر ہوتا ہے کہ جماعت کی ساری ذمہ داریاں تم پر ہیں۔اس راہ میں مرنے کے لیے ہر وقت تیار رہتے ہو۔تب بیشک یہ کہا جا سکتا ہے کہ تم نے وقف کی حقیقت کو سمجھا ہے۔یا درکھو بغیر موت قبول کرنے کے کوئی مذہبی جماعت، مذہبی جماعت نہیں بن سکتی۔تم کو پہلے قربانیاں دینی پڑیں گی اور جماعت کو بعد میں قربانی کے لیے بلایا جائے گا۔تم اگر یہ امید کرتے ہو کہ پہلے دوسرے لوگ قربانیاں کریں تو تم کا فر اور مرتد ہو۔پہلے تمہیں اپنی قربانیاں پیش کرنی پڑیں گی۔اور وہ دن کچھ زیادہ دور نہیں بلکہ وہ دن دروازے پر کھڑے ہیں، جب تم کو اپنی جانوں کی قربانیاں پیش کرنی پڑیں گی۔یہ عیاش لوگوں کے خیالات ہوتے ہیں کہ اگر ہم آگے بڑھے تو ہمارے بچے یتیم اور ہماری بیویاں بیوہ ہو جائیں گی۔مؤمن ان چیزوں کو فخر کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی راہ میں قبول کرتا ہے۔اگر خدا کی مرضی یہی ہے تو ہونے دو بیویوں کو بیوہ ، ہونے دو بچوں کو یتیم۔ہمارا مٹ جانا خدا کی راہ میں اگر اسلام کو مضبوط بناتا ہے تو ہم ضرور مئیں گے اور ہمارا منا ہمارے لیے فخر کا موجب ہوگا۔ہمارا یہ احساس کہ ہم زندہ رہ کر دین کی خدمت کریں، یہ دہریت ہے، یہ کفر ہے، یہ بے ایمانی ہے۔تم کو سب سے پہلے اپنی قربانی پیش کرنی ہوگی اور تمہاری اس قربانی کے بعد وہ ہزاروں ہزار اور لاکھوں لاکھ احمدی جو اس وقت نابینا ہیں اور صرف منہ سے اپنے آپ کو احمدی کہتے ہیں، اللہ تعالیٰ ان کی آنکھوں کو بھی بینا کر دے گا اور ان کے ایمانوں کو بھی مضبوط بنا 18