تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 294
اقتباس از خطبه جمعه فرموده 28 نومبر 1952ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد سوم - سابقون ہوں گے اور جو جماعت پہلے دور میں اس جہاد میں شریک ہوئی ، وہ من حيث الجماعت | سابقون الاولون ہوگی۔میں تحریک جدید کے کارکنوں کو بھی اس بات کی طرف توجہ دلاتا ہوں کہ وہ اپنے اندر ایمان پیدا کریں۔افسوس ہے کہ کارکن کام کو اس طرح نہیں کرتے کہ چندے سو فیصدی جمع ہوں۔مثلاً دور دوم کا ہمیشہ ہی یہ حال رہا ہے کہ وہ کبھی سو فیصدی پورا نہیں ہوا۔میں یہ نہیں سمجھتا کہ اس دور میں حصہ لینے والے اخلاص میں کم ہیں لیکن میں یہ ضرور کہوں گا کہ کارکن کام میں سست ہیں ، اس لئے اس دور کا چندہ پورے طور پر وصول نہیں ہوتا۔وعدوں کے لحاظ سے دور دوم کے مخلصین بھی ترقی کر رہے ہیں۔پچھلے سال ایک لاکھ، بتیس ہزار کے وعدے تھے اور اس سال ایک لاکھ ، چالیس ہزار کے وعدے تھے۔لیکن پچھلے سال 69 فیصدی وعدے وصول ہوئے تھے اور اس سال 64 فیصدی وعدے وصول ہوئے ہیں۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اس سال گزشتہ سال کی نسبت رقم زیادہ آئی ہے مگر فی صدی نسبت کم ہوگئی ہے۔اسی طرح میں واقفین کو بھی توجہ دلاتا ہوں کہ وہ اپنے اخلاص کو دیکھیں، وقت کو نہ دیکھیں۔عاشق وقت کو نہیں دیکھا کرتا، نوکر وقت کو دیکھتا ہے۔ہمارے ہاں تو اصل غرض کام سے ہے، کام کو وقت پر کریں۔اب تو یہ ہوتا ہے کہ اگر کہیں کوئی نقص ہو جاتا ہے تو میں دفتر کو توجہ دلاتا ہوں۔پھر کچھ عرصہ کے بعد دوبارہ دریافت کرتا ہوں تو مجھے بتایا جاتا ہے کہ تین ماہ ہوئے ، ہم نے ایک خط لکھا تھا۔مگر اس کا کوئی جواب نہیں آیا۔گویا ایک خط لکھ کر تین ماہ تک خاموشی طاری رہتی ہے۔حالانکہ چاہئے یہ تھا کہ ہر دس دن کے بعد خط لکھا جاتا۔میں یاد کراتا ہوں تو خط لکھتے ہیں۔یہ ستی کی علامت ہے اور مومن کو اس سے بچنا چاہئے۔میں نو جوانوں سے کہتا ہوں کہ وہ وقت کی قدر کو سمجھیں۔جو بھاگنے والے ہیں، میں انہیں کچھ نہیں کہتا بلکہ میں خدا تعالیٰ کا شکر ادا کرتا ہوں کہ ہمیں ان سے نجات ملی گئی۔لیکن جو نو جوان وقف میں نہیں آئے ، انہیں میں کہتا ہوں کہ اخلاص سے آگے آؤ۔ہمیں لاکھوں نو جوانوں کی ضرورت ہے۔اگر ہر پانچ سو افراد پر بھی ایک مبلغ ہو تو دوارب نہیں کروڑ کی آبادی کے لئے ہمیں پچاس لاکھ مبلغین کی ضرورت ہے۔ابھی وہ زمانہ نہیں آیا کہ ہم تبلیغ کے فرض سے فراغت حاصل کرلیں اور نہ کوئی ایسا وقت آ سکتا ہے۔اگر ایسے موقع پر نو جوان قربانی نہیں کریں گے تو اور کون کرے گا ؟ تم کو یہ سمجھ لینا چاہئے کہ انسان کی زندگی کا بہترین مصرف یہی ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کی راہ میں خرچ ہو۔جو شخص اسے نہیں سمجھتا، اس کے ایمان میں کمزوری پائی جاتی ہے۔اس کمزوری کو دور کرنا چاہئے۔جس کا ایمان مضبوط ہوتا ہے، وہ اس موقع پر آگے بڑھتا ہے۔صحابہ کو دیکھ لو، ان میں یہ روح کس حد تک پائی جاتی ہے۔294