تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 293 of 802

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 293

تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد سوم اقتباس از خطبه جمعه فرموده 28 نومبر 1952ء تمہاری اولادوں کی طرف اور تمہاری اولادوں سے ان کی اولاد ہوتا رہے گا۔اور اگر تم زندہ قوم نہیں ہو تو تم میں سے جن میں سچا ایمان پایا جاتا ہے، وہ جب تک زندہ رہیں گے اور موت اس دنیا سے انہیں دوسری دنیا میں نہیں لے جاتی، اس وقت تک وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا نام بلند کرتے رہیں گے۔گویا تحریک جدید ایک دن کی نہیں، وہ دو دن کی نہیں بلکہ ہر مومن کے لئے ہمیشہ کے لئے ہے۔اس کا ذکر قرآن کریم کی اس آیت میں ہے کہ قیامت تک تم میں ایک ایسی جماعت رہنی چاہئے ، جو تبلیغ اسلام کا کام کرے۔یہ آیت ایک دن کے لئے نہیں، یہ آیت دو دن کے لئے نہیں بلکہ یہ آیت قیامت تک کے لئے ہے۔اسی طرح تحریک جدید بھی قیامت تک کے لئے ہے کیونکہ یہ اس آیت کا ترجمہ ہے۔جو شخص اپنی ذمہ داری کو سمجھتا ہے، وہ قرآن کریم کو مانتا ہے اور جو اپنی ذمہ داری کو نہیں سمجھتا، وہ قرآن کریم کو نہیں مانتا۔اور جتنا جتنا کوئی شخص اس تحریک سے دور ہے، اتنا ہی وہ خدا تعالیٰ کی اطاعت اور فرمانبرداری سے دور ہے۔پس میں آج تحریک جدید کے انیسویں سال کا اعلان کرتا ہوں۔اگر تم میں ایمان ہے تو تمہیں یہ کہنا چاہیے کہ خدا تعالیٰ اس انیس کو اڑ میں بنائے اور اڑتیں کو چھہتر بنائے اور اس تحریک کو اس وقت تک لمبا کرے، جب تک کہ ہم آخری سانس موت کے حوالہ نہ کر دیں۔وو پس ہر مومن، جو اس جہاد میں حصہ لیتا رہے گا ، وہ اسے لمبا کرتا جائے گا۔ہاں چونکہ ار مختلف دور بن جائیں گے، اس لئے جو لوگ اس جہاد میں پہلے شریک ہوئے ، وہ سابقون الاولون کا خطاب پائیں گے کیونکہ سب سے پہلے دین کے جھنڈے کو بلند کیا۔اور باقی لوگ صرف مجاہد کہلائیں گے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ان مجاہدین میں سے بھی بعض لوگ سابقون الاولون ہوں گے۔لیکن جو لوگ ابتداء میں اس جہاد میں شریک ہوئے ، وہ بحیثیت جماعت سابقون الاولون قرار پائیں گے اور بعد میں آنے والے صرف انفرادی طور پر اس مقام کو حاصل کر سکتے ہیں“۔مومسن ایمان کی وجہ سے یہ کوشش کرتا ہے کہ وہ آگے بڑھے اور اپنی خدمات پیش کرے۔بیشک دنیا میں تغیرات بھی آئیں گے، خرابیاں بھی ہوں گی ، قحط بھی پڑیں گے، مصائب اور آفات بھی آئیں گی۔لیکن جو شخص مومن ہے، اس کا قدم آگے ہی آگے بڑھتا چلا جائے گا۔قحط اور مصائب اس کے قدم کو ست نہیں کر دیں گے۔پس تحریک جدید کو آگے بڑھانا ہمارا کام ہے۔یہ کام کہیں ختم نہیں ہوتا۔پہلی جماعت ، جس نے اس میں حصہ لیا، وہ سابقون الاولون کہلائے گی۔اور جو بعد میں آئے ، وہ مجاہد کہلا ئیں گے۔پھر ان مجاہدین میں سے بھی بعض اپنے وقت میں سابقون ہوں گے۔لیکن یہ صرف بحیثیت فرد 293