تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 292
اقتباس از خطبه جمعه فرموده 28 نومبر 1952ء "" تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد سوم غرض جب تک تفصیلات سے دوسری قوموں کو واقفیت نہیں ہوگی ، وہ صحیح طور پر اسلام کی تعلیم پر عمل نہیں کر سکتیں۔اس لئے ضروری ہے کہ کتب کا ان کی زبانوں میں ترجمہ کیا جائے۔ہماری منزل تو ابتداء کی ہے، ابھی انتہا بہت دور ہے۔اگر ہم ابتداء میں ہی تھک کر رہ گئے تو آخر میں ہمارا کیا حال ہوگا ؟ میں تو سمجھتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے بڑا احسان کیا ہے کہ اس نے ابتداء میں یہ تحریک مجھ سے غفلت میں کروائی۔اگر وہ پہلے اس بات کا انکشاف کر دیتا کہ یہ تمہارے لئے اور تمہاری آئندہ نسلوں کے لئے ہے تو شاید تم میں سے بہت سے لوگ اس ثواب سے محروم رہ جاتے۔اس نے مجھ سے یہ بات چھپائے رکھی اور صرف تین سال کے لئے تحریک کروائی۔اور پھر اس صورت میں بھی حقیقت پردہ میں رکھی۔میرے الفاظ خطبہ میں مہم رنگ میں چھپ گئے اور بعض لوگوں نے یہ خیال کر لیا کہ ہم ایک سال چندہ دیں گے اور وہ آئندہ تین سالوں میں خرچ ہوگا۔لیکن جب دوسرے سال ان سے چندہ مانگا گیا اور انہیں بتایا گیا کہ یہ تحریک تین سال تک رہے گی تو انہوں نے کہا کہ اچھا یہ بات ہے۔ہم تو یہ خیال کرتے تھے کہ صرف ایک سال چندہ دینا ہے، اچھا چندہ لے لو۔تین سال گزرنے پر میں نے اس تحریک کو دس سال تک بڑھا دیا تو لوگوں نے یہ خیال کر لیا کہ سات سال اور ہیں، چلو اتنے سال اور چندہ دے دیں۔دس سال گزرنے پر آپ لوگ اس قابل ہو گئے تھے کہ لمب قدم اٹھا سکیں، اس لئے میں نے اس تحریک کو انیس سال تک بڑھا دیا۔چونکہ یہ فاصلہ زیادہ تھا، اس لئے بعض لوگ اس دفعہ گر گئے اور انہوں نے خیال کر لیا کہ چلو دس سال پورے ہو گئے ہیں۔پھر جب یہ تحریک انیس سال کے قریب آئی تو اللہ تعالیٰ نے میرے دل میں یہ سوال پیدا کیا کہ میں نے یہ کام کس غرض کے لئے جاری کیا تھا؟ میں نے کہا یہ کام میں نے تبلیغ اسلام کے لئے جاری کیا تھا۔اس پر خدا تعالیٰ نے مجھ پر القاء کیا کہ کیا تبلیغ اسلام صرف انہیں سال تک ہو گی ، بعد میں یہ کام معاف ہو جائے گا؟ تب میری آنکھیں کھلیں اور میں نے جماعت پر یہ واضح کیا کہ یہ کام قیامت تک جاری رہے گا اور جس دن بھی ہم نے اس کام کو چھوڑ دیا ، ہم مرے“۔" یہ خدا تعالیٰ کی حکمت ہے کہ اس نے پہلے مجھ سے چند سال کے لئے تحریک کروائی اور پھر ا سے بڑھوا دیا۔اور جب آخری سال یعنی انیسواں سال قریب آیا تو اس نے یہ ظاہر کر دیا کہ یہ انہیں کا عد کوئی چیز نہیں۔جب تک میں اور آپ لوگ زندہ ہیں، یہ فرض ہے، جو خدا تعالیٰ نے ہمارے ذمہ لگایا ہے۔اور جب تک ہماری اولادیں زندہ رہیں گی ، اس وقت تک یہ فرض ہے، جو ان کے ذمہ لگایا گیا ہے۔اسے کوئی ہٹا نہیں سکتا اور اسی طرح ہر نسل پر واجب ہوتا چلا جائے گا۔اگر تم ایک زندہ قوم ہو تو یہ فرض تم سے 292