تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 291
تحریک جدید - ایک البی تحریک جلد سوم اقتباس از خطبه جمعه فرموده 28 نومبر 1952ء اس وقت کام کی ابتداء ہے۔ابھی تک دنیا کی دوارب ، ہمیں کروڑ کی آبادی میں ہمارے پچاس مبلغ کام کرتے ہیں۔اگر اس آبادی کے چوتھے حصہ تک بھی ہم خدا تعالیٰ کا پیغام پہنچا ئیں اور سال میں پچاس کروڑ انسانوں کو چار صفحہ کا اشتہار صرف ایک دفعہ پہنچائیں تو اس کے معنی یہ ہیں کہ اگر ایک ہزار اشتہار شائع کیا جائے تو اس پر بارہ روپے خرچ آتے ہیں۔پھر ان اشتہارات کو لوگوں تک پہنچانے کولیا جائے تو کل خرچ قریبا ہیں روپے تک آئے گا۔اور اگر ایک لاکھ اشتہارات چھپوا ئیں تو دو ہزار روپیہ خرچ آئے گا۔ایک کروڑ اشتہارات چھپوائیں تو دولاکھ روپیہ خرچ آئے گا۔اور اگر پچاس کروڑ اشتہارات شائع کریں تو ایک کروڑ روپیہ لگے گا۔یعنی ایک کروڑ روپیہ سے ہم دنیا کی چوتھائی آبادی کو صرف ایک دفعہ چار صفحہ کا ایک اشتہار بھیج سکتے ہیں۔وہ بھی اس امید پر کہ چار میں سے ایک شخص اسے پڑھے گا اور باقیوں کو سنا دے گا۔اب آپ لوگ خود اندازہ لگا سکتے ہیں کہ کتنا بڑا کام ہمارے سامنے ہے۔ابھی تو ہمارالٹر پچر ار دوزبان میں بھی مکمل نہیں ہوا۔غیر زبانیں تو ابھی بالکل تشنہ ہیں۔ابھی تک ہم نے بیرونی ملکوں کے احمدیوں میں اسلام کے موٹے موٹے اصول پھیلائے ہیں۔لیکن اب وہ کہتے ہیں، ہم موٹے اصول پر کفایت نہیں کر سکتے ، اب تو تفصیلی احکام بتاؤ ، فقہ لاؤ، ان کتابوں کے ترجمے لاؤ۔ابھی ایک ڈاکٹر صاحب، جو انگلینڈ میں ہیں اور انہوں نے سوچ سمجھ کر اسلام قبول کیا ہے، ان کا مجھے خط آیا ہے کہ میری بیٹیوں میں سعادت تو ضرور پائی جاتی ہے، اسلام کی طرف انہیں رغبت بھی ہے اور انہوں نے مجھے دیکھ کر اسلام قبول بھی کر لیا ہے۔لیکن میرے پاس وہ کتا بیں نہیں کہ جن سے میں انہیں بتا سکوں کہ ان پر کیا کیا ذمہ داریاں ہیں؟ در اصل بات یہ ہے کہ جن چیزوں کی ضرورت پہلے اسلامی دنیا کو تھی ، اب ان چیزوں کی باہر بھی ضرورت ہے۔اب ہمیں حدیث ، تصوف، فقہ، قرآن کریم اور دوسرے ضروری مسائل کا ترجمہ کر کے پھیلانا ہوگا۔اگر ایک زبان میں دس دس صفحات کی چھوٹی چھوٹی کتابیں بھی پھیلائی جائیں تو دنیا میں پندرہ بیس ہزار زبانیں ہیں۔اگر بڑی بڑی زبانوں کو ہی لے لیا جائے تو وہ ہیں تمہیں زبانیں ہو جاتی ہیں۔اگر ان زبانوں میں ہی ہم ایک ایک لاکھ صفحات شائع کریں تو یہ بیس لاکھ صفحات ہو جاتے ہیں۔اور اگر ہر کتاب کے دس دس ہزار نسخے بھی رکھ لیے جائیں تو یہ اربوں صفحات بن جاتے ہیں۔اور پھر کہیں جا کر ہم ان لوگوں کو اسلام کے ابتدائی مسائل سمجھا سکتے ہیں۔لیکن ابھی تو انہیں یہ بھی پتہ نہیں لگا کہ اسلام کی حقیقت کیا ہے؟“ 291