تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 281
تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد سوم اقتباس از خطبه جمعه فرموده 21 نومبر 1952ء نوجوان اپنے فرائض منصبی اور قومی ذمہ داریوں کی طرف توجہ کریں 22 خطبہ جمعہ فرمودہ 21 نومبر 1952ء اب میں نوجوانوں کو خطاب کر کے انہیں اس طرف توجہ دلاتا ہوں کہ وہ اپنے فرائض منصبی اور قومی ذمہ داریوں کے ادا کرنے کی طرف توجہ کریں۔ان کے ماں باپ بھی اس وقت میرے مخاطب ہیں۔قومی زندگی نوجوانوں کی ترقی کے ساتھ وابستہ ہے۔میں دیکھتا ہوں کہ جس وقت احرار کا فتنہ 1934ء میں شروع ہوا تھا، اس وقت نہ معلوم کیا حالات تھے، جن کی وجہ سے جماعت میں اتنی بیداری پیدا ہوئی کہ سینکڑوں نو جوانوں نے زندگیاں وقف کیں؟ اور پھر ایسے حالات میں اپنی زندگیاں وقف کیں، جو آج کل کے حالات سے بالکل مختلف تھے۔آج کل تو واقفین کے گزارے ایک حد تک معقول ہیں۔لیکن اس وقت جو گزارے دیئے جاتے تھے، وہ بہت قلیل تھے۔لیکن اس کے باوجود سینکڑوں نو جوانوں نے اپنی زندگیاں وقف کیں۔اب جو نو جوان باہر جاتے ہیں، انہیں علاوہ مکان اور دوسرے ضروری اخراجات کے گیارہ پونڈ ماہوار دیئے جاتے ہیں۔اگرچہ پونڈ کے علاقوں میں گیارہ پونڈ بھی بہت کم ہیں مگر پھر بھی مبلغ کو مکان کے اخراجات ، پانی کے اخراجات بجلی کے اخراجات وغیرہ علاوہ مل جاتے ہیں۔لیکن اس وقت ہم انہیں اس سے بھی کم اخراجات دیتے تھے اور بعض اوقات تو کچھ بھی نہیں دیتے تھے۔بلکہ کہتے تھے جاؤ اور کام کرو۔بعض اوقات چھ ، سات پونڈ دے دیتے تھے اور کہتے تھے اس رقم سے مکان ، پانی ، خوراک اور بجلی وغیرہ کا انتظام کرو۔لیکن اس زمانہ میں جب احمدیت کے خلاف پہلے سے بھی زیادہ شدید مخالفت اٹھی اور احمدیت سے محبت رکھنے والوں کے دل میں یہ خطرہ پیدا ہو گیا کہ اب دین کی حالت نہایت نازک ہے، مجھے جماعت کے نوجوانوں میں وہ بیداری نظر نہیں آئی، جو پہلے ان میں پیدا ہوئی تھی۔احرار کے پہلے فتنہ کے وقت تو یہ حالت تھی کہ اسے دیکھ کر سینکڑوں نوجوانوں نے زندگیاں وقف کر دیں۔لیکن اس شورش کے وقت میں، میں دیکھتا ہوں کہ سینکڑوں نوجوانوں کا زندگیاں وقف کرنا تو ایک طرف رہا، درجنوں نوجوانوں نے بھی زندگیاں وقف نہیں کیں۔بلکہ ہفتہ، دو ہفتہ میں ایک آدھ درخواست ایسی آجاتی ہے کہ مجھے وقف 281