تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 16 of 802

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 16

اقتباس از خطبه جمعه فرموده 30 جنوری 1948ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد سوم کیوں کر پیدا ہوئی ؟ کیا تم کو پتہ ہے کہ کائنات کیوں کر بنی ؟ نہ تم کو یہ پتہ ہے کہ دنیا کیوں کر پیدا ہوئی اور نہ تم لو یہ پتہ ہے کہ کائنات کیوں کر بنی۔فلاسفر آج تک بخشیں کرتے رہے مگر وہ ان امور کو حل نہ کر سکے۔تمہارے سامنے دنیا موجود ہے تم بتاؤ تو سہی کہ ستارے کہاں ختم ہوتے ہیں؟ پھر اس کے بعد کیا ہے؟ اگر کہو کہ یہ سلسلہ غیر محدود ہے۔تو غیر محدود ایک ایسی اصطلاح ہے، جو کسی انسان کی سمجھ میں نہیں آسکتی۔جس طرح وہ یہ باور نہیں کر سکتا کہ کوئی چیز محدود ہو اور اس کے بعد کچھ نہ ہو۔جس طرح انسان یہ نہیں کہہ سکتا کہ دنیا ہمیشہ سے چلی آرہی ہے۔اسی طرح وہ یہ بھی نہیں سمجھ سکتا کہ پہلے کچھ نہ ہو اور پھر دنیا کا سلسلہ قائم ہو۔بے وقوف اور جاہل بے شک ان باتوں کو مان لیتے ہیں مگر جو لوگ عقلمند ہوتے ہیں، وہ صاف طور پر کہہ دیتے ہیں کہ یہ باتیں ہماری سمجھ میں نہیں آتیں۔پھر بعض لوگ اس سے یہ نتیجہ نکال لیتے ہیں کہ خدا کوئی نہیں۔اور بعض لوگ یہ کہتے ہیں کہ خدا تو ہے مگر اس کی باتیں انسانی سمجھ سے بالا ہیں۔غرض خدا تعالیٰ کے تمام کام کیوں اور کیوں کر اور کس طرح سے بالا ہوتے ہیں۔اگر تم ہر بات کو کیوں اور کس طرح سے حل کرنے لگے تو تمہیں پہلے اپنا انکار کرنا پڑے گا تمہیں ستاروں کا انکار کرنا پڑے گا، تمہیں دنیا کا انکار کرنا پڑے گا۔جب خدا دنیا میں ایک نئی جماعت قائم کرنا چاہتا ہے تو باوجود مخالف حالات کے وہ کس طرح غالب آ جاتی ہے، اسے نہ تم سمجھ سکتے ہواور نہ کوئی اور مجھ سکتا ہے؟ مگر دنیا میں ہمیشہ ایسا ہی ہوا ہے۔اس کیوں کر اور س طرح کے سوال کے ہوتے ہوئے، محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دنیا پر غالب آگئے۔اس کیوں کر اور کس طرح کے ہوتے ہوئے ، حضرت موسی اپنے مخالفین پر غالب آگئے۔کیوں کر اور کس طرح کے سوال ہوتے ہی رہے اور نوح اپنے مخالفین پر غالب آگئے۔اب بھی دنیا کیوں کر اور کس طرح ہی کہتی رہے گی اور سچا احمدی پھر دنیا پر اسلام کو غالب کرے گا۔پھر دنیا کی مایوسی اور نا امیدی کے باوجود محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حکومت دنیا میں قائم کر دے گا۔مگر پہلے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حکومت اپنے دلوں پر قائم کرو۔تمہارے دلوں پر قائم ہونے کے بعد ہی وہ دنیا میں قائم ہو سکتی ہے۔( مطبوعه روزنامه الفضل 07 اپریل 1948ء ) 16