تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 15
اقتباس از خطبہ جمعہ فرمودہ 30 جنوری 1948ء تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔۔۔جلد سوم ساری محبت میرے دل میں سمٹ آئی ہے۔جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے اتنے پیارے معلوم ہونے لگے کہ ان سے زیادہ پیارا مجھے دنیا میں اور کوئی وجود نظر نہیں آتا تھا۔پھر آپ نے فرمایا آگے بڑھو اور دشمن کا مقابلہ کرو۔وہ کہتا ہے کہ اس وقت یہ بات میرے واہمہ اور خیال میں بھی نہ رہی کہ میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مارنے کے لئے آیا تھا بلکہ اس کی بجائے آپ کی محبت کا اس قدر جوش میرے دل میں پیدا ہوا کہ خدا کی قسم اگر اس وقت میرا باپ بھی میرے سامنے آتا تو میں فوراً اس کی گردن کاٹ ڈال دیتا۔اس واقعہ سے معلوم ہو سکتا ہے کہ جب کسی انسان میں تغیر پیدا ہوتا ہے تو اس کی حالت کیا سے کیا ہو جاتی ہے؟ وہ ایک معمولی آدمی تھا ، وہ کفر کی حالت میں نکلا اور اس ارادہ کے ساتھ نکلا کہ میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل کر دوں گا۔محمد رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ہاتھ پھر جانے کی وجہ سے اس میں ایسا تغیر پیدا ہو گیا کہ وہ آپ کی خاطر ہر بڑی سے بڑی قربانی کرنے کے لئے تیار ہو گیا۔کیا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی اولاد سے یہ امید نہیں کی جاسکتی کہ وہ اپنے اندر اتناتو تغیر پیدا کریں، جتنا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ہاتھ پھر جانے کی وجہ سے اس انسان میں پیدا ہوا۔غرض میں جماعت کو عموماً اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے خاندان کو خصوصاً اس امر کی طرف توجہ دلاتا ہوں کہ وہ اپنی اصلاح کریں اور اپنے آپ کو اسلام کی خدمت کے لئے تیار کریں۔دشمن اپنا سارا زور اسلام کے مٹانے کے لئے لگائے گا۔بے شک جہاں تک احمدیت کا سوال ہے، خدا اس کا محافظ ہے۔مگر ہمارا بھی فرض ہے کہ جب خدا یہ کام کرنا چاہتا ہے تو ہم اس کے ہتھیار بن کر زیادہ سے زیادہ برکات اور ثواب حاصل کریں۔اور جیسا کہ میں نے بتایا ہے، یہ فضل اسی طرح حاصل ہوسکتا ہے کہ ہم قرآن اور ، حدیث پڑھیں، قرآن اور حدیث پر عمل کریں اور قرآن اور حدیث پر عمل کرائیں۔میں کہتا ہوں، اب وقت آ گیا ہے کہ جس طرح پرانے زمانے میں حضرت معین الدین صاحب چشتی ، حضرت خواجہ قطب الدین صاحب بختیار کا کی اور دوسرے اولیاء بغیر ڈر کے دشمن میں گھس گئے اور انہوں نے اسلام پھیلا دیا۔اسی طرح اب بھی لوگ بغیر کسی ڈر کے اسلام کی تبلیغ کے لئے نکل جائیں اور اس امر کی پرواہ تک نہ کریں کہ دشمن ان سے کیا سلوک کرے گا ؟ اور یقیناً جولوگ اس نیت اور اس ارادہ سے نکلیں گے کہ وہ اس قابل ہوں گے کہ بڑے سے بڑے دشمنوں کے دلوں کو بھی پھیر دیں، جیسے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ نے اس کافر کے دل کو بدل دیا۔آخر خدا کے کام معجزانہ ہی ہوتے ہیں۔تم یہ نہیں کہہ سکتے کہ یہ کیوں کر ہوگا۔جو کام خدا کے ہوتے ہیں، ان میں ” کیوں کر اور کس طرح کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔کیا تم کو پتہ ہے کہ دنیا 15