تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 272 of 802

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 272

اقتباس از خطبہ جمعہ فرمودہ 18 اپریل 1952ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد سوم میں نے تحریک جدید میں اس سال یہ قانون تو رکھ دیا ہے کہ اس سال کوئی نیامشن نہ کھولا جائے۔لیکن جہاں ہم پہلے مشن کھول چکے ہیں، اگر ہم حالات کے لحاظ سے اس بات پر مجبور ہو جائیں کہ وہاں اور مبلغ بھیجیں تو کچھ نہ کچھ خرچ بڑھے گا۔پھر واقفین کی اولا د بڑھ جانے سے بھی کچھ خرچ بڑھے گا۔اس سال تھیں کے قریب واقفین فارغ کئے گئے ہیں۔انہیں فارغ کرنے کے بعد بھی تحریک جدید پر 82 ہزار روپیہ کا قرض ہے۔ان کو شامل کر لیا جائے تو ایک لاکھ، دس ہزار روپیہ کا خسارہ تھا، جو ہمیں قرض لے کر پورا کرنا پڑتا۔میں نے جو کمی کی ہے ، وہ چالیس ہزار روپیہ کی ہے۔اور اس سے پہلے مجلس تحریک جدید بھی 60-50 ہزار روپیہ کی کمی کر چکی تھی۔اور پھر پچھلے سال کا قرض بھی تھا۔گویا ایک لاکھ تمہیں ہزار روپیہ کی کمی ہے، جو اس سال تحریک جدید کے بجٹ میں کی گئی ہے۔پھر موجودہ حالت میں جو کٹوتی کی گئی ہے، یہ بڑھے گی بھی۔اور اگر تحریک جدید کی مالی حالت یہی رہی تو اگلے سال ایک لاکھ، چار ہزار روپیہ قرض لے کر گزارہ کرنا پڑے گا۔اور اگر اگلے سال بھی تحریک جدید کی مالی حالت یہی رہی تو ایک لاکھ ، انتیس ہزار روپیہ لے کر گزارہ کرنا پڑے گا۔اور اگر اس سے اگلے سال بھی مالی حالت یہی رہی تو ایک لاکھ ، پچپن ہزار روپیہ قرض لے کر گزارہ کرنا پڑے گا۔پھر اتنا قرض ہو جائے گا، جو برداشت نہیں ہو سکے گا۔بشرطیکہ ہم اپنی مالی حالت سدھار لیں۔یہ کمیاں اس طرح دور کی جاسکتی ہیں کہ اول ہم اس کا طبعی ذریعہ اختیار کریں اور وہ تبلیغ ہے۔اس طرح جوں جوں ہمارا کام بڑھے گا ، جماعت کی تعداد بھی بڑھتی جائے گی۔اور جوں جوں جماعت کی تعداد بڑھتی جائے گی، چندہ زیادہ آئے گا۔اگر جماعت کی تعداد 35-30 ہزار سالانہ بڑھنی شروع ہو جائے تو اس کے معنی یہ ہوں گئے کہ دو تین لاکھ روپیہ کی آمد صدر انجمن احمدیہ کی بڑھ سکتی ہے اور تحریک جدید کی بھی آمد ایک لاکھ روپیہ تک بڑھ سکتی ہے۔پس کمیوں کو دور کرنے کا اصل طریق یہی ہے کہ تبلیغ کی جائے۔ہم اس طریق کو اختیار نہ کرنے کی وجہ سے کمزور ہورہے ہیں۔جب تک کام ہوتا ہے ، لوگ غافل ہو جاتے ہیں۔وہ یہ سوچتے نہیں کہ ہمارا اصل کام دنیا میں احمدیت کو پھیلانا ہے۔جس غریب کو مرکز میں دکان بنانے کا موقع مل جاتا ہے یا جس شخص کو فیس معاف ہو جانے کے بعد اپنے بچے کو پڑھانے کا موقعہ مل جاتا ہے، کتا بیں مفت مل جاتی ہیں یا وظیفہ مل جاتا ہے تو وہ سمجھتا ہے کہ میں نے اپنا کام پورا کر لیا ہے۔حالانکہ احمدیت اس بات کا نام نہیں کہ کسی کے بچے کی کتابیں خریدنے کے لئے پیسے مل جائیں یا اسے وظیفہ مل جائے یا باہر سے مارکھا کر کوئی یہاں آ جائے اور یہاں آکر دکان کھول لے۔جو شخص ان چیزوں کو سامنے رکھ کر خوش ہو جاتا ہے، وہ نہ احمدی ہوتا 272