تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 269
تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔۔جلد سوم خطبه جمعه فرموده 08 فروری 1952ء ناظر اور وکلا ء گولاکھوں لاکھ کے باپ ہیں۔ان کے اندر جو فکر اور مستعدی ہونی چاہیے، وہ بہر حال اس باپ کے مقابلہ زیادہ ہونی چاہیے، جس کے چار پانچ بچے ہیں۔لیکن عملاً یہ ہوتا ہے کہ غالباً وہ پنجابی کی اس ضرب المثل پر عمل کرتے ہیں کہ چڑھیا سوتے لتھا ہو۔یعنی جس شخص پر سوروپے قرض ہو جاتا ہے تو وہ بے فکر ہو جاتا ہے کہ اب یہ قرض اترے گا نہیں۔اسی طرح غالباً ہمارے ناظر اور وکیل بھی سمجھتے ہیں کہ چار، پانچ بچے ہوں تو فکر بھی ہو لیکن ہمارے بچے تو اب لاکھوں ہو گئے ہیں، اب فکر کی ضرورت ہی کیا ہے؟ کیا ہمارے ناظروں اور وکلاء نے کبھی یہ غور بھی کیا ہے کہ ناظر یا وکیل بننا کتنی بڑی عزت کی بات ہے؟ کسی شخص کو اگر ایک منظم قوم کا لیڈر بنے کا موقع مل جائے تو اس کی سات پشتوں کو اگر چوہڑوں کی طرح بھی کام کرنے کا موقع ملے تو وہ اسے اپنے لئے قابل فخر سمجھیں گے۔دنیا میں کس طرح لوگ لیڈر بننے کی کوشش کرتے ہیں۔مسلم لیگ میں دیکھو کتنی تفرقہ بازی ہے۔مولوی لوگ ایک دوسرے سے دست و گریبان ہیں۔وہ ایک دوسرے کے گلے کا ہار بنے ہوئے ہیں۔یہ صرف اسی چیز کے لئے ہے، جو تمہیں مفت مل گئی ہے۔کیا یہ بے قدری اس لئے ہے کہ تمہیں یہ لیڈری مفت مل گئی ہے؟ اگر تم کسی اور جماعت میں ہوتے تو لیڈری حاصل کرنے کے لئے تمہیں ہزاروں منصوبے کرنے پڑتے ، ہزاروں جھوٹ بولنے پڑتے اور قسم قسم کی دھوکہ بازیاں کرنی پڑتیں کہ کسی طرح تم دوسروں کو گرا ؤ اور خود آگے آؤ۔اور اگر تم ان کے منصوبوں ، جھوٹوں اور دھوکہ بازیوں کے نتیجہ میں کامیاب ہو جاتے تو اس قوم کے لیڈر بن جاتے۔لیکن ساتھ ہی شیطان بھی بن جاتے۔پس ایک لیڈری شیطان بن کر ملتی ہے اور ایک لیڈری خدا تعالیٰ کے فضل کے نتیجہ میں حاصل ہوتی ہے۔ان دونوں میں کتنا فرق ہے؟ دنیا میں ایسے خوش قسمت لوگ تھوڑے ہوتے ہیں، جن کو فریب ، دھوکہ بازی اور منصوبہ بازی کے بغیر لیڈری مل جائے۔بعض لوگ قوم کی خدمت کرتے ہیں اور اس طرح آگے آجاتے ہیں۔مثلاً سرسید علی گڑھی ، مولانا محمد علی جوہر، میاں فضل حسین اور قائد اعظم محمد علی جناح ، سراقبال۔یہ وہ لوگ تھے، جن کو تمام مسلمان جانتے ہیں۔انہوں نے اپنی ذاتی اغراض کے لئے کوئی کام نہیں کیا بلکہ محض قوم کی خدمت کی نتیجہ یہ ہوا کہ خدا تعالیٰ انہیں آگے لے آیا۔مگر ایسے لوگ بہت تھوڑے ہوتے ہیں۔ورنہ چھوٹی چھوٹی انجمنوں تک میں ہزاروں ریشہ دوانیاں ہوتی ہیں کہ کسی طرح کوئی خاص پارٹی آگے آجائے۔اور غرض یہ ہوتی ہے کہ زید یا بکر اس انجمن کے لیڈر بن جائیں ہسیکرٹری بن جائیں یا انہیں کوئی اور عہدہ مل جائے۔ایسے آدمی جنہوں نے قوم کی خدمت کی اور آگے آئے ، وہ کروڑوں کی جماعت میں درجنوں اور بیسیوں کے اندر ہی رہ جاتے ہیں۔لیکن ہماری جماعت میں بغیر کسی قسم کے دھوکہ، فریب اور منصوبہ کے آپ ہی آپ نظام کے ماتحت کچھ لوگ اوپر آ جاتے ہیں اور جماعت کی باگ 269