تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 268 of 802

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 268

خطبه جمعه فرموده 08 فروری 1952ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد سوم تم کسی خاص مقصد کے لئے اس محکمہ میں گئے ہو۔تمہارا فوج میں جانا، صرف قومی خدمت کے جذبہ کی وجہ سے تھا اور یا پھر تمہیں یہ خیال تھا کہ فوج میں تنخواہ زیادہ ملتی ہے۔حالانکہ مالی لحاظ سے اور بھی بہت۔ایسے محکمے ہیں، جہاں روپیہ کمایا جاسکتا ہے۔بہر حال تمہارا یہ فعل کسی سکیم کے ماتحت نہیں تھا۔لیکن دشمن نے یہ اعتراض کیا کہ تم کسی خاص سکیم کے ماتحت فوج میں گئے ہو۔گویا ایک طرف تمہارا ذاتی نقصان ہوا اور دوسری طرف قومی نقصان ہوا کہ خواہ مخواہ دشمن کو اعتراض کرنے کا موقع مل گیا۔میں آج پھر ماں باپ کو اور جماعت کے نوجوانوں کو اس امر کی طرف توجہ دلاتا ہوں کہ اب امتحانات قریب ہیں، چند ماہ کے بعد نئے گریجوایٹ پیدا ہوں گے، نئے ایم۔اے پیدا ہوں گے، نئے گریجوایٹ نکلیں گے ،سکولوں سے نئے طلباء نکلیں گے اور انہیں اپنے مستقبل کے لئے مختلف مضامین چننے ہوں گے، اس لئے مضامین کے انتخاب کے وقت تم کسی صیغہ کو بھی اپنے سامنے رکھو گے تو اس میں جانے کے لئے تمہارے لئے زیادہ سہولت ہوگی۔اس سلسلہ میں، میں نے وکلاء اور ناظروں کو اس طرف توجہ دلائی تھی کہ وہ اپنے کاموں کے متعلق تفصیلی سکیم تیار کر کے پندرہ سولہ جنوری تک میرے سامنے پیش کریں۔لیکن وکلاء اور ناظر شاید جمعہ میں بھی شامل نہیں ہوئے اور نہ ہی الفضل میں شائع شدہ خطبہ پڑھتے ہیں۔کیونکہ کسی ایک ناظر یا وکیل نے بھی اس طرف توجہ نہیں کی۔اور کسی وکیل اور کسی ناظر نے اپنی ایک سالہ یا دو سالہ یا سہ سالہ سکیم تیار کر کے میرے سامنے پیش نہیں کی۔(اس خطبہ کے بعد بعض ناظروں نے کچھ خاکے پیش کئے۔مگر تحریک کے وکلاء میں سے ایک کو بھی یہ توفیق نہیں ملی۔حالانکہ میں نے بتایا تھا کہ وقت آتا ہے اور گزر جاتا ہے۔ہم لوگ وقت گزر جانے کے بعد افسوس کرتے ہیں کہ ہم نے کوئی سکیم بنا کر اس کے مطابق کام نہیں کیا۔حالانکہ ہر سال گزرنے کے بعد خواہ ہم روتے رہیں، چلاتے رہیں، اس سے بنتا کیا ہے؟ وقت سے پہلے سکیم بنانی چاہیے تاکہ سال کے آخر میں ہم اس کا نتیجہ دیکھ سکیں۔عجیب بات یہ ہے کہ کسی ناظر اور وکیل نے میرے سامنے اپنے محکمہ کے لئے کوئی سکیم پیش نہیں کی۔میں آج خطبہ کے ذریعہ انہیں پھر توجہ دلاتا ہوں کہ وہ قوم کے لیڈر سمجھے جاتے ہیں، وہ قوم کے راہنما سمجھے جاتے ہیں، وہ قوم کے ماں باپ سمجھے جاتے ہیں۔اور جس قوم کے لیڈر، راہ نما اور ماں باپ اپنے فرائض سے غافل ہوں، اس کی ترقی میں جو روکیں پیدا ہوسکتی ہیں، ان کا اندازہ تم خود لگا سکتے ہو۔باپ بننا آسیان امر نہیں۔کیا آپ نے دیکھا نہیں کہ ایک باپ جس کے دو تین بیٹے ہوتے ہیں، اسے کتنی تکلیف ہوتی ہے؟ اسے ان کے کھلانے کا فکر ہوتا ہے، ان کے پلانے کا فکر ہوتا ہے، ان کے لباس کا فکر ہوتا ہے۔لیکن ہمارے 268