تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 14
اقتباس از خطبه جمعه فرموده 30 جنوری 1948ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد سوم پیدا ہو گئے کہ اسے اپنے دل کی بھڑاس نکالنے کا موقع مل گیا۔اسلامی لشکر جب آگے بڑھا تو دشمن نے کمین گاہوں سے تیر برسانے شروع کر دیئے مکہ کے حدیث العہد اور نئے نئے مسلمان ، جن میں بعض کا فر بھی شامل تھے اور جو بڑے تکبر سے آگے آگے چل رہے تھے، جب ان پر تیروں کی بوچھاڑ ہوئی تو وہ بے تحاشا پیچھے کی طرف بھاگے۔ان کے بھاگنے اور سواریوں کے بدکنے کی وجہ سے باقی لشکر میں بھی بھا گڑ مچ گئی اور سب لشکر میدان سے بھاگ نکلا۔یہاں تک کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس صرف بارہ آدمی رہ گئے۔اس وقت حضرت ابو بکر نے چاہا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو واپس لوٹائیں۔چنانچہ انہوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری کی باگ پکڑ لی اور کہا یا رسول اللہ اب ہمیں لوٹنا چاہیے۔تا کہ ہم لشکر کو جمع کر کے پھر حملہ کریں۔اس وقت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بڑے جوش سے فرمایا چھوڑ دو، میری سواری کی باگ کو۔اور حضرت عباس کو بلا کر کہا عباس آواز دو کہ اے انصار ! خدا کا رسول تم کو بلاتا ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت مہاجرین کا نام نہیں لیا۔اس کی وجہ یہ ہے مہاجرین کی سفارشوں پر ہی کفار مکہ کو ساتھ لیا گیا تھا۔چونکہ وہ مہاجرین کے رشتہ دار تھے ، انہوں نے سفارش کی کہ ان کو بھی ساتھ لیا جائے اور ان کو بھی خدمت کا موقع دیا جائے۔چونکہ ان کی اس سفارش کی وجہ سے ہی اسلامی لشکر کو نقصان پہنچا تھا اس لئے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی خفگی کا اس نہایت ہی لطیف پیرا یہ میں اظہار کیا۔کہ مہاجرین کا نام نہیں لیا۔بلکہ صرف یہ فرمایا کہ اے انصار ! خدا کا رسول تم کو بلاتا ہے۔مہاجرین بعض دوسرے الفاظ میں بے شک شریک ہو جاتے تھے مگر علیحدہ طور پر آپ نے اُن کا نام نہیں لیا۔مثلا بعض روایتوں میں ذکر آتا ہے کہ آپ نے فرمایا، اے بیعت رضوان والے لوگو! اور بیعت رضوان میں مہاجرین شامل تھے۔بہر حال اس عرصہ میں دشمن نے اور حملہ کیا اور ایک وقت ایسا بھی آگیا ، جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم میدان جنگ میں اکیلے رہ گئے۔اس وقت صرف ایک صحابی سفیان آپ کے پاس تھے یا وہ شخص تھا، جو آپ کو قتل کرنے کی نیت سے آیا تھا۔وہ کہتا ہے، جب میں نے دیکھا کہ آپ اکیلے ہیں تو میں نے سمجھ لیا کہ اب میرے لئے حملہ کا موقع آگیا ہے۔میں آگے بڑھا، اس نیت اور اس ارادہ سے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ماردوں۔جب میں آگے بڑھا تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نظر مجھ پر پڑگئی۔آپ نے فرمایا آگے آجاؤ، میں اور آگے چلا گیا۔جب میں آپ کے قریب پہنچا تو آپ نے اپنا ہاتھ لمبا کیا ، میرے سینہ پر اپنا ہاتھ پھیرا اور کہا اے خدا تو اس کے دل سے سارا کینہ اور بعض نکال دے۔وہ کہتا ہے، رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ کا میرے سینہ پر سے ہٹنا تھا کہ مجھے یوں معلوم ہوا کہ دنیا کی 14