تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 250
اقتباس از خطبه جمعه فرمودہ 14 دسمبر 1951ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد سوم ہیں ، جو در حقیقت کام کو نقصان پہنچانے والے ہوتے ہیں۔لیکن جو لوگ وعدے کرتے ہیں اور پھر ان وعدوں کو پورا کرنے کی کوشش کرتے ہیں، وہ خدا تعالیٰ کے حضور بھی سرخرو ہوتے ہیں اور دین کے کام میں بھی مددگار بنتے ہیں۔پس ایسے افرادکو میں توجہ دلاتا ہوں کہ وہ اپنی ذمہ داریوں کو سمجھیں۔اور چونکہ جماعتوں پر اس قسم کے افراد کی ذمہ داری ہوتی ہے اور جب تک کسی جماعت میں نقص واقع نہ ہو، اس وقت تک اس کے افراد میں یہ ذہنیت پیدا نہیں ہو سکتی۔اس لئے میں جماعتوں کو بھی توجہ دلاتا ہوں کہ وہ اپنے بقایا داروں کو ان کے فرائض کی طرف توجہ دلائیں۔انہیں نصیحت کریں اور سمجھا ئیں اور یا درکھیں کہ احمدی ہونا آسان نہیں۔جو شخص احمدی ہوتا ہے، وہ یہ سمجھ کر ہوتا ہے کہ مجھے مخالفتیں بھی برداشت کرنی پڑیں گی تکلیفیں بھی سہنی پڑیں گی اور قربانیاں بھی کرنی پڑیں گی۔پس وہ ایمان کی وجہ سے احمدیت میں داخل ہوتا ہے اور ایمان دار کو اس کی غفلت پر متنبہ کر دینا بالکل آسان ہوتا ہے۔اگر اس میں سستی پائی جاتی ہے یا غفلت پائی جاتی ہے اور ایمان اس کے دل میں موجود ہے تو توجہ دلانے پر وہ فوراً اپنی اصلاح کرے گا۔اور کام میں جو حرج واقع ہو رہا ہوگا ، وہ دور ہو جائے گا۔اس کے بعد میں جماعت کو اس امر کی طرف توجہ دلاتا ہوں کہ وعدے تو آ رہے ہیں اور انشاء اللہ آئیں گے۔مگر جیسا میں نے بتایا ہے، اب کام بڑھ رہا ہے اور وہ جو تحریک جدید کی آمد سے جائیداد پیدا کرنے کی کوشش کی گئی تھی، اس میں سے بھی سات، آٹھ لاکھ روپیہ ابھی قرض باقی ہے۔دوست چونکہ بھول جاتے ہیں ، اس لئے انہیں بار بار بتانا پڑتا ہے۔واقعہ یہ ہے کہ تحریک جدید کے لئے ریز روفنڈ قائم کرنے کی خاطر سندھ میں دس ہزا را یکڑ یعنی چار سو مربع زمین خریدی گئی ہے۔اس زمین کی قیمت جو ادا کی گئی ، وہ مختلف زمانوں میں مختلف ہوتی رہی ہے۔چونکہ ہم یک دم قیمت نہیں دے سکے تھے، اس لئے ہمیں تاخیری قیمت دینی پڑی تھی، جو اصل قیمت سے زیادہ تھی۔جیسے مشینوں کی فروخت کے متعلق دستور ہوتا ہے کہ اگر نقد قیمت ادا کی جائے تو مثلاً سوروپیہ دینا پڑتا ہے اور اگر قسطوں میں ادا کی جائے تو سوا سو دینا پڑتا ہے۔ہم نے بھی اس زمین کی قسط وار قیمت ادا کی ہے۔بعض جگہ سواد و سور و پیہ فی ایکڑ ، بعض جگہ اڑھائی سوروپیہ فی ایکڑ بعض جگہ تین سوروپیہ فی ایکڑ اور بعض جگہ تین سو ساٹھ روپیہ فی ایکڑ۔اس طرح ہماری اوسط قیمت فی ایکڑ اڑھائی سو روپیہ کے قریب پڑی ہے اور یہ سارا سودا چھپیں لاکھ روپیہ کا ہے۔بلکہ ہمارا اندازہ یہ ہے کہ میں لاکھ کے قریب کا یہ سودا ہے۔لیکن چندوں کے ذریعہ اس کی جو رقم ادا ہوئی ہے، وہ 250