تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 13 of 802

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 13

تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد سوم اقتباس از خطبہ جمعہ فرمودہ 30 جنوری 1948ء موجب بنیں۔جو افتراق اور شقاق اس وقت مسلمانوں میں پایا جاتا ہے، وہ اس قدر بڑھا ہوا ہے کہ ہر مسلمان اپنی ڈیڑھ اینٹ کی مسجد الگ بنانے کی فکر میں ہے۔کہیں مذہبی اختلاف کو آپس کے افتراق کا ذریعہ بنایا جارہا ہے اور کہیں سیاسی اختلافات کو آپس کے افتراق کا ذریعہ بنایا جارہا ہے۔اس تباہی اور بر بادی کا سوائے اس کے اور کوئی علاج نہیں کہ پھر مسلمان احمدیت کے ذریعہ ایک ہاتھ پر اکٹھے ہو جائیں اور پھر کفر پر حملہ کر کے اسے تباہ کر دیا جائے۔اور یقیناً ایسا ہوسکتا ہے۔یہ خیال کہ ہم تھوڑے ہیں اور دشمن زیادہ ہے، بالکل غلط ہے۔ہندوستان کے نو کروڑ مسلمان، جو اپنے آپ کو اسلام کی طرف منسوب کرتے ہیں ، اگر ان کا چوتھا حصہ یعنی سوا دو کروڑ مسلمان بھی ایک ہاتھ پر جمع ہو جائے تو نہ صرف ہندوستان کے تئیں کروڑ غیر مسلموں پر بلکہ چین اور جاپان پر بھی، جس کی آبادی شامل کر کے ایک ارب تک پہنچ جاتی ہے، ہمیں غلبہ حاصل ہو سکتا ہے۔ہم اس سے گھبرانے والے نہیں کہ ہم تھوڑے ہیں اور دشمن زیادہ ہے۔روحانیت میں بہت بڑی طاقت ہوتی ہے اور یہ طاقت خدا تعالیٰ کے فضل سے ہمیں حاصل ہے۔بے شک مادی اور ظاہری سامانوں میں بھی طاقت ہوتی ہے مگر مادی اور ظاہری سامان صرف جسم فتح کرتے ہیں۔روحانی طاقت دشمن کے اس مقام پر حملہ کرتی ہے، جہاں اس کا بچاؤ بالکل ناممکن ہوتا ہے۔اگر اسلام کا صحیح نمونہ پیش کیا جائے اور والہانہ طور پر اس کی تبلیغ اور اشاعت کی جائے تو وہی لوگ ، جو آج ہمارے دشمن اور کا ہمارے مقابل میں لڑ رہے ہیں، کل ہمارے ساتھ شامل ہو کر اسلام کی طرف سے کفر کے مقابلہ کے لئے نکل کھڑے ہوں گے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب مکہ فتح کیا تو خانہ کعبہ کے پجاری بھی بظاہر مسلمان ہو گئے۔اس وقت کا ایک پجاری کہتا ہے کہ میرے خاندان کے بہت سے آدمی چونکہ مسلمانوں کے ہاتھوں مارے گئے تھے، اس لئے گو میں بظاہر مسلمان ہو گیا مگر میں نے اپنے دل میں قسم کھائی کہ جب بھی مجھے موقعہ ملا، میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کوقتل کر کے اپنے خاندان کے افراد کا بدلہ لوں گا۔اس کے بعد ایسا اتفاق ہوا کہ اس کی اس خواہش کے پورا ہونے کا ذریعہ بھی نکل آیا۔طائف والوں سے جنگ ہوئی اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اہل طائف کا مقابلہ کرنے کے لئے صحابہ کو لے کر چل پڑے۔اس وقت یہ شخص بھی جو آپ کے قتل کا ارادہ رکھتا تھا لشکر میں شامل ہو گیا۔اس کا اپنا بیان ہے کہ میں نے سمجھا کہ میرے لئے بہت ہی عمدہ موقعہ پیدا ہو گیا ہے۔اگر لڑائی میں کوئی ایسا موقع آیا، جب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اکیلے ہوئے تو میں انہیں مارڈالوں گا۔اسی لئے میں آپ کے قریب قریب رہتا تھا۔آخر ایسے سامان بھی 13