تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 243
تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد سوم خطبہ جمعہ فرمودہ 30 نومبر 1951ء بھی ہمارے مبلغ موجود ہیں اور مشرق میں بھی ، شمال میں بھی ہمارے مبلغ موجود ہیں اور جنوب میں بھی۔آج ہر ملک اور ہر قوم میں اسلام اور احمدیت کا جھنڈا گاڑا جارہا ہے۔ابھی ہمارے مبلغ تھوڑے ہیں اور ہمیں بار بار ان کو مدد بھجوانی پڑے گی۔اس طرح جس طرح شام اور ایران کے اسلامی لشکروں کو کمک کی ضرورت پڑتی تھی۔ایران میں جب مسلمانوں کو ایک جنگ میں شکست ہوئی تو اس وقت مدینہ میں مزید فوج بھجوانے کے لئے اعلان کیا گیا۔مگر مدینہ اور اس کے نواح میں کوئی فوج نہیں تھی، جو مسلمانوں کی مدد کے لئے بھجوائی جاتی۔یہی کیفیت اس وقت ہماری ہوگی۔ہمیں بھی اسی طرح جس طرح ایک بھٹیارہ پتے اور سوکھی شاخیں اپنی بھٹی میں جھونکتا چلا جاتا ہے، اسلام کی اشاعت کے لئے متواتر اور مسلسل اپناروپیہ بھی جھونکنا پڑے گا ، اپنے آدمی بھی جھونکنے پڑیں گے، اپنی کتابیں بھی جھونکنی پڑیں گی ، اپنا لٹریچر بھی جھونکنا پڑے گا اور اس راستہ میں ہمیں کسی بڑی سے بڑی قربانی سے بھی دریغ نہیں کرنا پڑے گا۔شیطان اپنی کرسی کو آسانی سے نہیں چھوڑ سکتا۔اس وقت خدا کے تخت پر شیطان متمکن ہے۔اس وقت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے تخت پر شیطان کے ساتھیوں نے قبضہ کیا ہوا ہے اور وہ اسے آسانی سے نہیں چھوڑ سکتے۔وہ لڑیں گے اور پورے زور کے ساتھ ہمارا مقابلہ کریں گے۔اور ہم کو بھی اپنا سب کچھ اس راہ میں قربان کر دینا پڑے گا۔بہر حال جب یہ چیز واضح ہو جائے اور اس لڑائی کی اہمیت کو انسان سمجھ لے تو اس کے بعد تین یا دس یا انیس کا سوال، کوئی احمق ہی کر سکتا ہے۔جب ہم نے یہ تحریک شروع کی تھی ، اس وقت ہم اس کے نتائج سے ایسے ہی ناواقف تھے، جیسے مکہ میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے معاہدہ کرنے والے انصار اپنے معاہدہ کی حقیقت سے ناواقف تھے۔جیسے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر اسلام کا شاندار مستقبل ابھی پورے طور پر روشن نہیں ہوا تھا، اسی طرح ہم پر بھی اس تحریک کا مستقبل اس وقت روشن نہیں ہوا۔پس میں نے تم سے اسی طرح وعدہ لیا، جس طرح انصار سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وعدہ لیا تھا۔اور تم نے اسی طرح اقرار کیا ، جس طرح انصار نے معاہدہ کے وقت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اقرار کیا تھا۔لیکن جب زمانہ نے پردے اٹھا دیئے ، قدرت نے انکشاف کر دیا تو نہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا وعدہ وعدہ رہا اور نہ انصار کا معاہدہ معاہدہ رہا۔اب دنیا ہی بدل چکی تھی ، اب ساری دنیا کو فتح کرنے کا سوال تھا ، اب ساری دنیا میں اسلام کا جھنڈا گاڑنے کا سوال تھا، اب مدینہ کے اندر یا مدینہ کے باہر کا کوئی سوال نہ تھا ، اب ہر جگہ یہ لڑائی لڑی جانے والی تھی۔اسی طرح اب ہمارے لئے یہ امر واضح ہو گیا ہے کہ خدا تعالیٰ ہمارے لئے وہ دن قریب سے قریب تر لانا چاہتا ہے، جب ہم نے اسلام کی لڑائی کو اس کے اختتام اور 243