تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 234 of 802

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 234

خطبہ جمعہ فرمودہ 30 نومبر 1951ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد سوم کر دینا چاہئے غلطی، بہر حال غلطی ہے اور اس کا ازالہ ضروری ہے۔میں دیکھتا ہوں کہ بعض لوگوں کے دلوں میں یہ احساس پایا جاتا ہے کہ یہ تحریک صرف چند سالوں کے لئے جاری کی گئی تھی مگر اب اس کو ممتند کیا جارہا ہے۔گزشتہ سال بھی میں نے اس طرف اشارہ کیا تھا۔جس پر بعض سمجھ گئے بعض ادھورا سمجھے اور بعض اب تک بھی نہیں سمجھے۔میں نے جب یہ تحریک جاری کی تھی تو تین سال کے لئے جاری کی تھی۔پھر میں نے اس تحریک کو دس سال تک بڑھا دیا اور پھر اسے انیس سال تک ممتد کر دیا۔بعض ایسے تھے ، جنہوں نے تین سال کے اختتام پر اس تحریک میں حصہ لینا چھوڑ دیا اور انہوں نے کہا کہ بس ہم سے اتنے عرصہ کے لئے ہی قربانی کا مطالبہ کیا گیا تھا، اب ہم زیادہ قربانی نہیں کر سکتے۔بعض ایسے تھے، جنہوں نے دس سال تک چندہ دیا اور کہا کہ اب ہم اس سے آگے جانے کے لئے تیار نہیں۔کیونکہ آپ نے دس سال تک اس تحریک کو بڑھایا تھا۔اس کے بعد جب یہ تحریک انیس سال تک ممتد کر دی گئی تو گو ایسے لوگ بھی ہیں، جو میرے خطبات اور اعلانات کو سن کر حقیقت کو سمجھ چکے ہیں، مگر اب بھی بعض لوگ ایسے ہیں، جنہوں نے میرے مفہوم کو ادھورا سمجھا ہے اور انہوں نے مجھے لکھا ہے کہ آپ کے اعلانات سے پتہ لگتا ہے کہ انہیں سال کے بعد یہ قربانی ختم ہو جائے گی مگر ہم تو ہر وقت قربانی کرنے کے لئے تیار ہیں۔آپ جب تک قربانی کے لئے بلاتے رہیں گے، ہم اس پر لبیک کہتے چلے جائیں گے۔اب یہ فقرہ بظاہر تو بڑے اخلاص والا معلوم ہوتا ہے، لیکن حقیقتاً اس میں بھی کمزوری پائی جاتی ہے۔سوال یہ ہے کہ دین کی خدمت میں میرے بلانے کا کیا سوال ہے؟ فرض کرو د نیا میں ایک ہی مسلمان رہ جائے تو کیا وہ ایک مسلمان دین کی خدمت چھوڑ دے گا، اس لئے کہ اسے بلانے والا کوئی نہیں ؟ جہاں عشق ہوتا ہے، وہاں تو بلانے اور نہ بلانے کا سوال ہی نہیں ہوتا۔لوگوں نے لطیفہ بنایا ہوا ہے کہ ایک چھوٹا سا جانور ہے، جو رات کو الٹا سوتا ہے۔کسی نے اس سے پوچھا کہ تورات کو ٹانگیں اوپر کی طرف اٹھا کر کیوں سوتا ہے؟ اس نے کہا دیکھو ساری دنیا رات کو سو جاتی ہے اور غافل ہو جاتی ہے، اگر آسمان رات کو گر پڑے تو سارے کے سارے تباہ ہو جا ئیں۔پس میں سوتے وقت ٹانگیں اٹھا لیتا ہوں تا کہ اگر آسمان گرے تو میری ٹانگوں پر گرے، دنیا تباہ نہ ہو۔اب ہے تو یہ ایک لطیفہ، جانوروں سے کون باتیں کیا کرتا ہے؟ مگر پرانے زمانہ میں دستور تھا کہ حکمت کی بات جانوروں کے منہ سے بیان کی جاتی تھی۔ساری مثنوی رومی ایسی ہی حکایات سے بھری پڑی ہے۔اسی طرح کلیلہ دمنہ وغیرہ میں بھیڑ یاما شیر یا بلخ یا مرغوں کی زبان سے کئی داستانیں بیان کی گئیں ہیں۔کیونکہ لوگ سمجھتے تھے کہ دوسروں کو حکمت کی بات سمجھانے کا ایک موثر ذریعہ ہے اور اس طرح زیادہ آسانی کے ساتھ وہ دوسرے کی 234