تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 231
تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔۔جلد سوم خطبہ جمعہ فرمود و 30 نومبر 1951ء کبھی یہ بھی بھول جاتا ہے کہ وہ آداب، جو کھانے پینے کے ہیں کہ ہاتھ دھو کر کھانا کھاؤ اور خدا تعالیٰ سے دعا کردو، یہ انہیں ہمیشہ ملحوظ رکھنے چاہئیں، وہ بعض دفعہ بغیر ہاتھ دھوئے ، کھانا شروع کر دیتے ہیں یا اللہ تعالی سے دعا نہیں کرتے لیکن ایک بات ہے، جو بچے کبھی نہیں بھولتے اور وہ یہ کہ خواہ جھوٹے طور پر ہی کسی زمانہ میں منہ سے بات نکل جائے کہ ہم تمہیں یہ چیز لے کر دیں گے تو وہ اس بات کو کبھی نہیں بھولتے اور اس وقت تک پیچھے ہی پڑے رہتے ہیں ، جب تک وہ چیز انہیں لا کر نہ دی جائے؟ در حقیقت اس میں بہت بڑی سچائی بیان کی گئی ہے۔اور ہر گھر میں ماں باپ کو اس کا تجربہ ہوگا کہ بچہ کو خواہ اس کے والدین مذاق ہی سے یہ کہہ دیں کہ تمہیں فلاں چیز لے کر دیں گے اور پھر لے کر نہ دیں تو وہ ہمیشہ کہتا رہتا ہے کہ فلاں چیز کا میرے ساتھ وعدہ کیا گیا تھا مگر مجھے وہ چیز لے کر نہیں دی گئی۔اگر بچہ بھی اپنا وعدہ پورا کرواتا ہے تو ہمارا خدا کیا بچوں سے بھی گیا گذرا ہے کہ وہ اپنا وعدہ پورا نہیں کروائے گا؟ اور اگر بچوں کے ڈر کے مارے تم ان کے وعدوں کو بھی پورا کر دیتے ہو تو کیا ہمارا خدا ہی ایسا ہے کہ تم اس سے ڈر کر اپنے وعدوں کو پورا نہ کرو؟ پس تم نے جو خدا تعالیٰ سے وعدے کئے ہیں، ان وعدوں کی عظمت کو پہچانو اور یا درکھو کہ تمہارا مستقبل تمہاری اولاد کا مستقبل ،تمہاری قوم کا مستقبل تمہارے ملک کا مستقبل تمہاری حکومت کا مستقبل بلکہ ساری دنیا کا مستقبل خدا تعالیٰ سے ہی وابستہ ہے۔اگر اس سے صلح رکھی جائے گی تو تمہارے ہر کام میں برکت پیدا ہو جائے گی۔لیکن اگر تم اس سے صلح نہیں رکھو گے تو تمہارا ہر کام خراب ہوگا اور تم اپنی کامیابی سے کوسوں دور چلے جاؤ گے۔پس گذشتہ سال کے جو وعدے ہیں، ان کو پورا کرنا بھی تمہارا فرض ہے اور پورا بھی اسی سال کے اندر کرنا ہے۔دوستوں کو چاہیے کہ وہ ان وعدوں کو جلد تر پورا کرنے کی کوشش کریں۔بعض جماعتوں کی طرف سے اطلاعیں آرہی ہیں کہ انہوں نے چندے بھی بھجوا دیئے ہیں اور بعض رقوم چیکوں کے ذریعہ آرہی ہیں، جو ابھی تک نہیں پہنچے۔ان چندوں کو ملا کر اس سال کی فیصدی انشاء اللہ اور بھی بڑھ جائے گی۔لیکن اگر پھر بھی بعض لوگوں کے وعدے رہ جائیں تو انہیں کوشش کرنی چاہئے کہ اپنے وعدوں کو جلد سے جلد ادا کر دیں۔تا کہ انہیں اگلے سال کے وعدوں کو پورا کرنے کی جلدی توفیق مل سکے۔جس شخص پر پچھلے سال کا بھی بوجھ ہوتا ہے ، وہ اگلے سال کا بوجھ اٹھانے میں اتنی بشاشت محسوس نہیں کرتا، جتنی بشاشت اور آسانی وہ شخص محسوس کرتا ہے، جس پر گزشتہ سال کا کوئی بوجھ نہیں ہوتا۔اس کے علاوہ دوستوں کو ایک اور امر بھی مد نظر رکھنا چاہیے اور وہ یہ کہ ابھی چھٹے سال کے بلکہ اس سے بھی پہلے سالوں کے کئی وعدے ایسے ہیں ، جو پورے نہیں ہوئے۔ان وعدوں کو بھی اگر مد نظر رکھا جائے 231