تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 230
خطبہ جمعہ فرمودہ 30 نومبر 1951ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد سوم تو یہی رکھتے ہیں کہ چونکہ یہ خدا تعالیٰ کا کام ہے، اس لئے وہ اس کی ترقی کے لئے کوئی نہ کوئی سامان پیدا کر دے گا۔وہ خود لوگوں کے دلوں میں قربانی کی روح پیدا فرمائے گا یا نٹے آدمی لائے گا ، جو اس بوجھ کو خوشی سے اٹھانے کے لئے تیار ہو جائیں گے۔لیکن جہاں تک ہم ظاہری حالات کو دیکھتے ہیں۔ہمارے دل میں دھڑکن پیدا ہونے لگتی ہے کہ اس زمانہ میں اسلام کی فتح کا جو کام ہمارے سپرد کیا گیا ہے، اس میں کوئی روک پیدا نہ ہو جائے۔جہاں تک میں دیکھتا ہوں، ہماری جماعت خدا تعالیٰ کے فضل سے بڑھ رہی ہے اور جہاں تک میں دیکھتا ہوں ، ہماری جماعت کے نوجوان اچھے تعلیم یافتہ نکل رہے ہیں اور ان کی مالی حالت ترقی کر رہی ہے۔ان امور کو دیکھتے ہوئے ، ہمیں یقین رکھنا چاہئے کہ اگر جماعت کی تربیت کی جائے اور صحیح طور پر کی جائے تو یہ کام ہمیشہ ترقی ہی کرتا جائے گا۔چونکہ اب نیا سال شروع ہونے والا ہے، اس لئے میں گذشتہ سال کی طرح پھر جماعت کو اس امر کی طرف بھی توجہ دلانا چاہتا ہوں کہ وہ پچھلے سال کے وعدوں سے غافل نہ ہو۔بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ چونکہ اب نیا سال شروع ہو گیا ہے، اس لئے ہمارا پچھلا وعدہ معاف ہے۔مگر یہ بالکل غلط ہے۔خدا تعالیٰ سے کئے گئے وعدے اگر پورے نہ کئے جائیں تو انسان کو اگلی نیکیوں کی بھی توفیق نہیں ملتی۔یہ کسی بندے سے معاملہ نہیں بلکہ خدا تعالیٰ کے ساتھ معاملہ ہے، جو عالم الغیب ہے۔بندوں سے اگر تم کوئی وعدہ خلافی کرو تو ہوسکتا ہے کہ وہ تمہاری وعدہ خلافی کو بھول جائیں۔مگر خدا تعالیٰ جانتا ہے کہ تم نے اس سے کیا وعدہ کیا تھا اور تم اسے کیوں پورا نہیں کر رہے؟ پس دوستوں کو یا درکھنا چاہیے کہ یہ وہ وعدہ ہے، جو انہوں نے خدا تعالیٰ سے کیا ہے۔تم گورنمنٹ سے وعدہ کر کے اسے نہیں توڑ سکتے تم محلہ والوں سے وعدہ کر کے اسے نہیں توڑ سکتے ہم اپنے افسروں سے وعدہ کر کے اسے نہیں توڑ سکتے بلکہ بڑے تو الگ رہے، اگر تم اپنے بچوں سے کوئی وعدہ کرتے ہو، پھر اسے توڑنے لگتے ہوتو وہ شور مچادیتے ہیں کہ آپ یہ کیا کرنے لگے ہیں۔اور تمہیں اپنے بچوں کا وعدہ بھی پورا کرنا پڑتا ہے۔تھوڑے ہی دن ہوئے ، میں نے ایک امریکن کا ایک قول پڑھا، جو مجھے بڑا دلچسپ معلوم ہوا۔وہ لکھتا ہے، معلوم نہیں کیا بات ہے کہ ہمارے بچوں کو کبھی بھی یہ بھول جاتا ہے کہ وہ سکول میں داخل ہیں اور انہوں نے مدرسہ میں پڑھنے کے لئے جانا ہے کبھی کبھی ہمارے بچوں کو یہ بھی بھول جاتا ہے کہ بڑوں اور بزرگوں کے سامنے جاتے وقت کیا آداب بجالانے چاہیں اور کون سے طریق ہیں، جو انہیں اختیار کرنے چاہئیں، کبھی کبھی ہمارے بچوں کو یہ بھی بھول جاتا ہے کہ انہیں اپنا لباس درست رکھنا چاہیے، کبھی انہوں نے کوٹ نہیں پہنا ہوتا، کبھی ان کے پاؤں میں جواب نہیں ہوتی کبھی جوتی نہیں ہوتی ، ہمارے بچوں کو 230