تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 229 of 802

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 229

تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد سوم خطبہ جمعہ فرمودہ 30 نومبر 1951ء ہاتھ میں بھی آتا ہے۔پس بظاہر حالات چاہیے یہ تھا کہ یہ رفتار اوپر کی طرف چلتی اور پہلے سے زیادہ سرعت کے ساتھ ترقی کرتی ، نہ یہ کہ پہلے معیار سے بھی گر جاتی۔پس ایک تو میں جماعت کے دوستوں کو اس امر کی طرف توجہ دلاتا ہوں کہ یہ غفلت جہاں سے بھی پیدا ہوئی ہے، اسے دور کرنا چاہئے۔یا تو یہ بات ہے، جونہایت خطرناک ہے کہ 47ء کی چوٹ کے خوف کی وجہ سے تمام احمد یوں نے یکدم اپنے وعدے زیادہ کر دیئے تھے، خدا نہ کرے ایسا ہو۔اور یا پھر اس کی یہ وجہ ہے کہ بعض احمدیوں نے کمزوری دکھائی اور ان کی وجہ سے کمی آگئی۔بہر حال کوئی صورت ہو اور کسی وجہ سے بھی کمی آگئی ہو، اگر دین کے لئے روپیہ کم آئے گا تو اس کے نتیجہ میں لازمی طور پر تبلیغ بھی کم ہوگی۔چاہے کوئی وجہ ہو، خواہ چوری ہوگئی ہو اور اس وجہ سے روپیہ کم ہو گیا ہو یا آمد کم ہوگئی ہو یا سنتی اور غفلت واقع ہوگئی ہو۔نتیجہ یہی نکلے گا کہ پیسہ کم آئے گا اور جب پیسہ کم آئے گا تو اسلام کی اشاعت اور اسلام کی ترویج کو بھی نقصان پہنچے گا۔اور ظاہر ہے کہ یہ بات ناپسندیدہ ہوگی۔قوم کے معنی ہی یہی ہوتے ہیں کہ اگر ایک میں کوتاہی پیدا ہو تو دوسرا اس کو دور کر دے۔ایک گھوڑے کی گاڑی کا گھوڑ ا جب تھک جاتا ہے تو گاڑی ٹھہر جاتی ہے۔لیکن دو گھوڑے کی گاڑی کا اگر ایک گھوڑا تھک بھی جاتا ہے تو دوسرا چلتا چلا جاتا ہے۔جماعت اور فرد میں یہی فرق ہے، جو کام ایک فرد کر رہا ہو، وہ جہاں کمزور ہو جائے گا، کام ختم ہو جائے گا۔لیکن جو کام ایک قوم کر رہی ہو ، اس کام کے کرتے ہوئے ، اگر ایک شخص میں کمزوری بھی پیدا ہو گئی ہوگی تو باقی آدمی اس بوجھ کو بانٹ لیں گے اور اس طرح وہ قومی کام کے تسلسل میں کوئی روک پیدا نہیں ہونے دیں گے۔پس جماعت کے قائم کرنے کی جو غرض ہے، ہماری جماعت کو وہ کبھی نہیں بھولنی چاہئے۔اگر وہ سمجھتے ہیں کہ جماعت کا کچھ حصہ کمزور ہے، خواہ ایمانی لحاظ سے یا مالی لحاظ سے یا قربانی میں شمولیت کے عزم کے لحاظ سے تو باقیوں کا فرض ہے کہ وہ اپنے قدم کو تیز تر کر دیں اور جماعتی کاموں میں کوئی رخنہ واقع نہ ہونے دیں۔جماعت تبھی جماعت کہلا سکتی ہے، جب وہ دوسروں کا بوجھ بٹانے کے لئے ہر وقت تیار رہے اور سمجھے کہ اگر کسی حصہ میں بھی کمزوری پیدا ہوئی تو میں خود وہ بوجھ برداشت کر کے اس کمزوری کو ظاہر نہیں ہونے دوں گا۔پس اس حصہ کی کمی کو بھی دور کرنا چاہیے۔باقی اس میں کوئی شبہ نہیں کہ پچھلے سال کی نسبت اس سال وصولی زیادہ ہوئی ہے۔لیکن اس سال اخراجات بھی بہت بڑھ گئے ہیں۔جس کی وجہ سے تحریک جدید کی مالی حالت خطرہ میں گھری ہوئی ہے۔اگر اسے جلدی ضبط میں نہ لایا گیا تو ممکن ہے کہ خدانخواستہ ہمیں اپنے بعض مشن بند کرنے پڑیں۔ہم یقین 229