تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 227 of 802

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 227

تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد سوم خطبہ جمعہ فرمودہ 30 نومبر 1951ء گئے کہ انہوں نے سمجھ لیا کہ یہ دنیابے ثبات ہے، اس کی ہر چیز فانی ہے اور بے حقیقت ہے۔اور عقلمندی اسی میں ہے کہ وہ ان چیزوں کو خدا تعالیٰ کی راہ میں قربان کر دیں تا کہ انہیں اس کی طرف سے ثواب تو حاصل ہو۔مگر پھر جوں جوں صدمہ کم ہوتا چلا گیا توں توں ان کی قربانی بھی کم ہوتی چلی گئی۔اگر ہم یہ توجیح کریں اور ساتھ اس امر کو بھی مدنظر رکھیں کہ خدا تعالیٰ نے اسلام کی ترقی کے سامان ضرور کرتے ہیں۔یہ ہو نہیں سکتا کہ جس مذہب کو خدا تعالیٰ نے اس لئے بھیجا ہے کہ اسے سارے دینوں پر غالب کرے، جس مذہب کو خدا تعالیٰ نے اس لئے بھیجا ہے کہ وہ تمام پرانے دینوں کو کھا جائے ، عین اس وقت جب خدا تعالیٰ کا منشاء اس کو غالب کرنے کا ہو، وہ گر جائے اور ہار جائے۔یہ تو قطعی طور پر ناممکن ہے۔دوسرے اس بات کو مدنظر رکھیں کہ یہ بھی یقینی بات ہے کہ خدا تعالیٰ نے یہ کام انہی لوگوں سے لینا ہے، جنہوں نے دین کی خدمت کے لئے اپنے آپ کو پیش کیا ہوا ہے۔یہ کبھی نہیں ہوا کہ خدا تعالٰی نے اپنے کام ان سے لئے ہوں، جنہوں نے خدمت کے لئے اپنے آپ کو پیش نہیں کیا۔حضرت موسی اعلیہ السلام آئے تو خدا تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام کے دین کی اشاعت فرعون اور اس کے ساتھیوں سے نہیں لی بلکہ موسیٰ علیہ السلام کے ماننے والوں سے لی۔حضرت عیسی علیہ السلام آئے تو خدا تعالیٰ نے عیسی کی تعلیم اور ان کی باتوں کی اشاعت یہودیوں اور ان کے علماء سے نہیں کرائی بلکہ عیسی کی باتوں اور ان کی تعلیم کی ترویج اور اشاعت عیسی کے ماننے والوں کے ذریعہ ہی ہوئی۔اسی طرح جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو بعثت اولی میں جو قرآن کریم پھیلا اور دنیا میں توحید پھیلی اور دوسرے علوم پھیلے، ان باتوں کو ابو جہل اور عقبہ اور شیبہ نے رائج نہیں کیا بلکہ ان باتوں کو ابو بکر، عمر، عثمان علی اور دوسرے صحابہ نے رائج کیا۔اللہ تعالیٰ کی یہ سنت ہمیشہ سے چلی آتی ہے اور اس زمانہ میں بھی یہ بدل نہیں سکتی۔اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے کہ اس کی سنت بدلا نہیں کرتی۔اور اس کی یہ سنت ہے کہ ہمیشہ ہی اس کی طرف سے جو پیغام آتا ہے، اس کی اشاعت اور تبلیغ اور ترویج اس پیغام پر پہلے ایمان لانے والوں کے ذمہ ہوتی ہے اور وہی اس خدمت کو سرانجام دیتے ہیں۔جب یہ دو حقیقتیں ثابت شدہ ہیں تو ہم نے جو پہلی توجیح کی تھی ، اسے دیکھ کر دل ڈر جاتا ہے۔کیونکہ جب یہ ثابت شدہ حقیقت ہے کہ اسلام نے ضرور غالب آتا ہے۔اور جب یہ ثابت شدہ حقیقت ہے کہ اسلام نے انہیں لوگوں کے ہاتھوں غالب آتا ہے، جنہوں نے خدا تعالیٰ کے مامور کو مانا۔تو اس کے ساتھ ہی جب یہ بھی ثابت ہو جائے کہ خدا تعالیٰ کے مامور کو ماننے والی اس وقت کی جماعت تب قربانی 227